زندگی کے رازداں

 


پچھلی قسط پڑھ کر کسی نے پوچھا ہے:

“کس سطح پر تبدیلی اور کس طرح کی تبدیلی لانے سے یہ ملک اور یہاں رہنے والی قوم ترقی کی طرف جا سکتی ہے؟ پاکستان تو کب کا آزاد ہو چکا، اب ہمیں اِس کی ترقی اور کامیابی کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ میں نے یہی پایا ہے کہ ہم شہری تو ہر طرح سے ملک کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن سیاسی معاملات اور سیاستدانوں میں مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے۔ تو میرا سوال یہی ہے کہ ہمارے قومی رہنما جنہوں نے پاکستان کے لیے بہت سی قربانیاں دیں وہ تو اپنا کام کر چکے ہیں، اب آگے کیا کرنا لازم ہے جس سے اِس ملک کے حالات بہتر ہوں اور آزادی کا اصل مطلب بھی لوگوں کو جینے کو مل سکے۔”

آپ نے آزادی کے “اصل مطلب” کا ذکر کیا ہے تو وہ میرے خیال میں یہ ہے کہ معاشرے میں غربت اور خوف کا تصوّر بھی باقی نہ رہے (دیکھیے میری پوسٹ، “مرغدین: جہاں غربت اور خوف نہیں“)۔ جس سطح پر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے وہ انفرادی ہے کیونکہ پہلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ ہماری تمام مشکلات کی اصلی اور حقیقی وجہ یہی ہے کہ ہم ایک ایسے تعلیمی نظام کی پیداوار ہیں جس نے ہماری نظروں میں ہماری قوم کو حقیر بنا دیا ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ میں یہ تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی قوم کو عزت دینا سیکھیں۔


آج بھی ہم فیاض ہاشمی کے ایک نغمے سے آغاز کریں گے۔ 1966 میں ایک پاکستانی فلم ریلیز ہوئی، “شبنم”، جس کا ایک نغمہ میڈم نورجہاں کی آواز میں آج تک مقبول ہے۔ پہلا مصرعہ ہے، “چُن لیا میں نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا”!

آپ یہ نغمہ سنتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کیجیے کہ اِس میں محوب کا انتخاب کرنے کی کیا وجہ بتائی جا رہی ہے۔ یعنی اگر کسی کو “چُن لیا”، تو کس بنیاد پر چُنا؟




1887، 1897 اور 1902 میں کسی نہ کسی اتفاق کی وجہ سے برطانوی کالونیوں کے نمایندے یا وزرائے اعظم لندن میں اکٹھے ہوئے جہاں انہیں آپس میں مشاورت کرنے کا موقع ملا۔  1894 میں کینیڈا نے بھی بعض اہم معاملات پر صلاح مشورے کے لیے اس قسم کی ایک کانفرنس بلوائی۔

اس طرح برطانیہ میں یہ خیال زور پکڑتا گیا کہ مفتوحہ علاقوں کے ساتھ تعلقات مشاورت کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں۔ 1906 میں طے ہوا کہ اس مقصد کے لیے باقاعدگی کے ساتھ کانفرنسیں منعقد ہوا کریں، ان کا ایک مستقل سیکرٹیریٹ ہو اور یہ تمام امور طے کرنے کے لیے مارچ 1907 میں اگلی کانفرنس بلوائی جائے۔


نیٹشے

اس کے برعکس بعض یورپی دانشوروں میں یہ نظریہ  مقبول ہونے لگا کہ نئے اور بلند خیالات کچھ لوگ تخلیق کرتے ہیں اور پھر وہ خیالات عوام تک پہنچتے ہیں۔ اس لحاظ سے مشاورت ایک فضول چیز تھی یا اس کی افادیت بہت محدود تھی اور روحانی برابری کی کوئی گنجایش نہیں تھی۔

اس نظریے کا سب سے بڑا مبلغ جرمن مفکر فریڈرک نیٹشے تھا۔

1887 میں اِس نظریے کے لیے “اشرافی انقلابیت” (aristocratic radicalism) کی اصطلاح وضع کی گئی  (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، “سیمرغ: علامہ اقبال کے لیکچرز کا تعارف“)۔


سر آرتھر کونن ڈائل

1887 ہی میں آرتھر کونن ڈائل نے (جنہیں بعد میں سر کا خطاب ملا)، انگریزی ادب کا لازوال کردار شرلک ہومز پیش کیا۔

اگر پچھلے سال شائع ہونے والی کہانی “ڈاکٹر جیکل اینڈ مسٹر ہائیڈ” میں برطانوی معاشرے کا یہ مسئلہ چھُپا ہوا تھا کہ خیر اور شر کے رجحانات بیک وقت فروغ حاصل کر رہے ہیں (جیسا کہ پچھلی قسط میں ذکر ہوا)، تو شرلک ہومز کے کردار میں اس مسئلے کا حل پوشیدہ تھا۔

وہ حل یہ تھا کہ چیزیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی نظر آتی ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ بظاہر جو مجرم دکھائی دے رہا ہے، جرم اُسی نے کیا ہو۔ لازم ہے کہ ظاہر سے گزر کر حقیقت کو پہچاننے کی ہمت پیدا کی جائے۔ ہومز کا عقیدہ یہ ہے کہ “جب آپ کسی بھی صورت حال میں سے ناممکنات کو خارج کر دیں تو پھر جو بھی رہ جائے وہی سچ ہے خواہ کتنا ہی بعید از قیاس لگتا ہو”۔

آنے والا دَور صرف اُن لوگوں کے لیے تھا جن میں یہ ہمت موجود ہو:

چیتے کا جگر چاہیے، شاہیں کا تجسس
جی سکتے ہیں بے روشنیٔ دانش و فرہنگ



1887 میں سیّد احمد خاں کو سر کا خطاب ملا جس کے بعد وہ ’’سر سیّد‘‘ کہلانے لگے۔

اس برس انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ انڈین نیشنل کانگرس میں شامل نہ ہوں۔

ایک وجہ یہ تھی کہ انگریزوں اور مسلمانوں کے دلوں میں ابھی تک ایک دوسرے کے لیے کافی غصہ اور شکوک و شبہات موجود تھے۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ کانگرس نے جو مطالبات پیش کیے وہ مسلمانوں کے مفاد میں نہ تھے۔

اس کے علاوہ کانگرس نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایجی ٹیشن کا طریقہ اختیار کیا، جسے سر سید بہت فضول سمجھتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا:

“امریکہ میں اول اسی قسم کا ایجی ٹیشن شروع ہوا تھا اور آخر کو یہاں تک نوبت پہنچی کہ آخری لفظ جو اُن کے منہ سے نکلا وہ یہ تھا کہ ’’نو ٹیکسیشن وِدآؤٹ رپرزنٹیشن‘‘! پس جن لوگوں  میں اِس لفظ کے کہنے کی طاقت ہو وہ اس کانگرس کے ایجی ٹیشن میں شریک ہوں ورنہ ہیجڑوں کی طرح تالیاں بجانی ہیں۔”

حالی کا کہنا ہے کہ:

’’پرانے خیالات کے مسلمان بھی جو ہمیشہ سر سید کی ہر ایک رائے اور ہر ایک تجویز کی مخالفت یا اس سے نفرت ظاہر کرتے تھے، اُنہوں نے بالاتفاق ان کی رائے کو تسلیم کر لیا اور باستثنائے معدودے چند تمام تعلیم یافتہ مسلمانوں نے بھی اس پر پورا پورا عمل کیا، نیز پرانے خیالات کے اکثر ہندوؤں نے اور تقریباً کل تعلقہ داروں، جاگیرداروں اور رئیسوں نے عام اس سے کہ ہندو ہوں یا مسلمان ان کی رائے سے اتفاق ظاہر کیا۔‘‘


چنانچہ مسلمانوں کے اگلے بیس برس تعلیم اور ترقی پر توجہ دینے، اور ثقافتی قوتوں کو مجتمع کرنے میں صرف ہوئے۔

محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس ان کی ملک گیر تنظیم تھی لیکن پورے ہندوستان میں چھوٹے چھوٹے پیمانے پر اِسی قسم کی تنظیموں اور تعلیمی اداروں کا ایک جال سا بچھنے لگا۔ عام طور پر یہ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔


کانفرنس کے سالانہ جلسوں نے، جو مختلف شہروں میں ہوتے تھے، واقعی پورے خطے کے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں بڑا کام کیا۔

1892 کے اجلاس میں صدرِ جلسہ مولوی حشمت اللہ نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:

“دس اینٹوں میں کچھ نہیں ہے۔ جب ملا دیجئے دیوار ہے۔ اِسی طرح قوم کی قوّت بڑھانے کو یہ پہلا جلسہ ہے۔ اس میں مل کر اور یہاں آ کر جو مسرّت ہو جاتی ہے، یہ اُنہیں سے پوچھئے جو اِس میں شریک ہیں کُل ملک میں کوئی جلسہ قومی نہ تھا۔ اس کا وجود بجائے خود اپنی غایت کو ثابت کرتا ہے۔”


اِس خیال کے مطابق ایک فرد کی طرح قوم بھی بتدریج نشو و نما پاتے ہوئے مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ ہر مرحلے کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔

یہ بات جس شخص نے ایک مکمل فلسفے کی صورت میں بیان کی وہ محسن الملک تھے۔ 1893 کے جلسے کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

“پیغمبر ہوں یا مصلحانِ قوم، خدا نے سب کے لیے یہ قاعدہ رکھا ہے کہ ان کی کوشش کو منزلِ مقصود تک پہونچنے میں بہت سے درجے طے کرنے پڑتے ہیں … میں ان لوگوں کو نتیجہ دیکھنے کی اُمید نہیں دلا سکتا جو صبر نہیں کرتے زمانہ ان کی خواہشوں سے اپنی رفتار  بدل نہیں سکتا۔ قدرت کے قانون میں ان کی بے صبری سے کچھ تبدیلی نہیں ہو سکتی … زمین میں بیج ڈالنے سے فصل کے تیار ہونے تک کئی درجے طے کرنے پڑتے ہیں۔

“کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ ہماری قسمت میں آیندہ کیا لکھا ہے۔ ہم اپنے مقصود پر کامیاب ہوں گے یا ہماری کوششیں ضائع اور رائیگاں جائیں گی۔ مگر جس راستہ پر ہم نے چلنا شروع کیا ہے وہ سیدھا راستہ ہے اور سیدھی راہ پر چلنے والا اگر برابر چلتا رہے، بلاشبہ منزلِ مقصود پر پہونچتا ہے۔”

چنانچہ محسن الملک کے لحاظ سے اُن کے زمانے میں قوم نے جس سفر کا آغاز کیا وہی سفر مرحلہ بہ مرحلہ آج تک جاری ہے۔ وہ اور اُن کے جانشین اس سفر کے مختلف مراحل کی نشاندہی بھی کرتے گئے، مثلاً آج کی قسط کے آخر میں ہم دیکھیں گے کہ ان لوگوں نے 1887 سے 1906 کے عرصے کو ایک مرحلہ قرار دیا (آج کی قسط اسی لحاظ سے ہے اور بقیہ اقساط بھی انہی لوگوں کے بتائے ہوئے مراحل کے لحاظ سے ہوں گی)۔


اِس پہلے مرحلے (1887-1906) کی کیا خصوصیت تھی؟

محسن الملک کے لحاظ سے یہ ایک نئی ابتدا تھی۔ چنانچہ قوم کی تاریخ میں یہ بالکل ویسا ہی زمانہ تھا جیسا کہ انسانیت کی تاریخ میں حضرت آدم علیہ السلام کا زمانہ یا وہ مرحلہ جب اِس زمین پر پہلے پہل انسان کا ظہور ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح آدم علیہ السلام نے شجرِ ممنوعہ کا پھل کھایا تھا، اُسی طرح سر سید کے کہنے پر مسلمانوں نے علم کے درخت کا پھل چکھا اور:

“جن لوگوں نے وہ پھل کھایا نیکی و بدی کو پہچاننے لگے۔ اور اُس گناہ میں غفلت اور بیخبری کی بہشت سے نکالے گئے۔ وہ اپنے آپ کو ننگا دیکھ کر شرمندہ ہوئے اور اپنی عریانی چھپانے کی فکر کرنے لگے…

“اب ہم ہیں اور طرح طرح کی تکلیفیں، قومی ہمدردی، قومی محبت، قومی ترقی، قومی تعلیم، قومی تربیت، قومی اصلاح اور خدا جانے کتنے عذاب! مگر جب کہ ہم نے خود ان مصائب کو قبول کیا، تو اُسے اب مردانہ وار برداشت کرنا چاہئے۔

“تاکہ وہ دوامی راحت، اور لازوال خوشی، ہم کو نصیب ہو جو نتیجہ ان تکلیفوں کا اور ثمرہ ان مصیبتوں کا ہے۔”



انڈین نیشنل کانگرس کا مطالبہ تھا کہ ہندوستان کی اشرافیہ کو اپنی حکومت کے نمایندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔

ایک بہت محدود پیمانے پر یہ مطالبہ 1892 میں منظور ہوا جب انڈین کونسلز ایکٹ نافذ ہوا۔

اگرچہ اس ایکٹ میں ’’انتخاب‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا لیکن یہ واضح تھا کہ وائسرائے کی کونسل کے کچھ نمایندے منتخب بھی ہوں گے (وائسرائے کی کونسل اس زمانے میں ایک طرح سے اسمبلی کی حیثیت رکھتی تھی)۔ انتخاب کرنے کا حق ایک خاص حد سے زیادہ جائیداد رکھنے والوں، اور لوکل باڈیز اور یونیورسٹیوں تک محدود تھا۔


مسلمانوں نے محسوس کیا کہ یہ ایکٹ انہیں اپنے نمایندے منتخب کرنے کا حق نہیں دیتا۔

اس مسئلے کی ایک جامع وضاحت سر سید کے صاحبزادے سید محمود نے 1896 میں ایک میمورنڈم میں کی جو مسلمانوں کی ایک ایسوسی ایشن کی طرف سے حکومت کو پیش کیا گیا۔

اس میں کہا گیا:

“ریپریزنٹیشن کا اصلی منشأ یہ ہوتا ہے کہ منتخب شدہ شخص انتخاب کرنے والوں کو ریپریزنٹ کرے۔ موجودہ حالت میں لیجلسٹیو کونسل کے لیے بھی منتخب کرنے والے کثرت سے ہندو ہیں اور ہندو انتخاب کرنے والے اگر وہ کافی عقل رکھتے ہوں گے۔ تو وہ انہیں مسلمانوں کو منتخب کریں گے۔ جن کے خیالات اُن سے بالکل یا تقریباً ملتے جلتے ہوں۔ اور اس طرح مسلمانوں کو معلوم ہو گا کہ اُن کے فرضی وکلأ جو درحقیقت ہندوؤں کی وجہ سے منتخب ہوئے تھے ایک ایسی پالیسی کی تائید کر رہے ہیں جس کو تمام مسلمان ناپسند کرتے ہیں

“انتخابی طریقہ کے ابتدائی اصول اِس بات کو چاہتے ہیں کہ مسلمان ممبروں کے انتخاب کے لیے مسلمان ہوں۔ اور ہندو ممبروں کے انتخاب کے واسطے ہندو

“اس کا انتظام نہایت آسانی سے یوں ہو سکتا ہے کہ ایسا قاعدہ بنایا جائے جس کی رو سے کسی خاص انتخاب میں میونسپلٹیوں کی ایک خاص جماعت کے ہندو میونسپل کمشنر کسی ہندو ممبر کو منتخب کرے۔ اور دوسرے انتخاب میں مسلمان میونسپل کمشنر کسی مسلمان ممبر کو۔ یہی اصول امپیریل لیجسلٹیو کونسل کے ممبروں کے انتخاب میں اختیار کرنا چاہیے۔”


سیدھے سادے الفاظ میں مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کو حق ہونا چاہیے کہ وہ بھی اپنے نمایندے چُن سکیں۔ یہی وہ اصول ہے جسے جداگانہ انتخاب (separate electorate) کہا گیا (“جداگانہ نیابت” بھی کہتے تھے)۔

یہ اصول بعد کی پوری مسلم تاریخ کا سب سے اہم اصول بن گیا۔ مسلمان اسے اُس وقت تک چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے جب تک کہ انہوں نے پاکستان حاصل نہیں کر لیا۔ اسی کی وجہ سے پاکستان کا حصول ممکن ہوا۔

اِس بات سے سید محمود کی اہمیت کا اندازہ لگائیے اور پھر سوچیے کہ ہماری اِس سے بڑی غفلت کیا ہو گی کہ ہماری تاریخ کی کتابوں اور نام نہاد “مطالعۂ پاکستان” میں ان کا نام تک درج نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے کہا ہے، “ایک زندہ قوم اس لیے زندہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے مرے ہوؤں کو نہیں بھولتی۔” اس لحاظ سے ہم تعلیم یافتہ کہلانے والے پاکستانی کیا زندہ کہلانے کے مستحق ہیں؟

یہاں اُن کی تصویر دی جا رہی ہے تاکہ آج ہم کم سے کم اتنی اہم شخصیت کی صورت سے آشنا تو ہو جائیں۔



1898 میں سر سید فوت ہو گئے۔

محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا دسمبر 1899 کا اجلاس کلکتہ میں ہوا اور مشہور کتاب “روِحِ اسلام” کے مصنف جسٹس سید امیر علی نے خطبۂ صدارت میں کہا:

“آج ہم ایک نئی صدی کے آستانے پر کھڑے ہیں اور آیندہ صدی میں جو ترقی کی اُمیدیں ہو سکتی ہیں اُن کو سوچ کر خوش ہوتے ہیں۔ خصوصاً ہم میں سے جو لوگ نوجوان ہیں اُن کو اُمید رکھنی چاہیے کہ جس صدی کے آغاز میں وہ کوششیں کر رہے ہیں وہ اُن کی قوم کی علمی ترقی اور بہبودی کا ایک دَور ہو گا اور یہ  بھی بھروسہ رکھنا چاہیے کہ ہر فرد بشر کی مساعی پر اُس کی قوم کی ترقی منحصر ہے۔”

جس نسل نے ان سرگرمیوں کے درمیان ہوش سنبھالا اور جو نئی صدی کے آغاز کے وقت نوجوان تھی، اُس کے اُبھرتے ہوئے ستاروں میں محمد علی جوہر، شوکت علی، اقبال اور جناح شامل تھے۔


اقبال کی شہرت کا آغاز انجمن حمایتِ اسلام لاہور کے جلسوں سے ہوا جن کا ایک مقصد یتیموں کے لیے چندہ جمع کرنا تھا اور جس نظم سے انہیں پہلی دفعہ شہر ت ملی وہ ’’نالۂ یتیم‘‘ تھی جو اُنہوں نے 1900 میں سنائی۔

1904 میں اپنی پہلی نثری تصنیف “علمُ الاقتصاد” کے دیباچے میں لکھا:

“اِس زمانے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مفلسی بھی نظمِ عالم میں ایک ضروری جزو ہے؟ کیا ممکن نہیں کہ ہر فرد مفلسی کے دُکھ سے آزاد ہو؟ کیا ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ گلی کوچوں میں چپکے چپکے کراہنے والوں کی دل خراش صدائیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجائیں اور ایک درد مند دل کو ہلادینے والے افلاس کا دردناک نظارہ ہمیشہ کے لیے صفحۂ عالم سے حرفِ غلَط کی طرح مِٹ جائے؟”


انجمن حمایت اسلام کا جلسہ 1904۔ دائیں سے چوتھے بیٹھی ہوئی دوسری قطار میں حالی، اور کھڑی ہوئی پہلی قطار میں اقبال ہیں۔

پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ انگریزی تعلیم نے بعض ہندوؤں کے دلوں میں مسلمانوں کی تاریخ سے جو نفرت پیدا کی تھی اُس کا اولین اظہار اِس تحریک کی صورت میں ہوا تھا کہ اُردو  کی بجائے ہندی رائج کر دی جائے۔ جب تک سر سید زندہ رہے انہوں نے یہ کوششیں کامیاب نہ ہونے دیں۔ 1898 میں اُن کا انتقال ہوا اور 1900 میں یوپی کے گورنر سر انٹونی میکڈانل نے حکم جاری کیا کہ سرکاری دفاتر میں ناگری حروف جاری کر دئیے جائیں۔

مؤرخ امین زبیری کے مطابق حکومت کے اس اقدام نے ’’مسلمانوں میں سخت بیچینی پیدا کر دی کیونکہ مسلمانوں کے لیے من حیث القوم یہ رزولیوشن سخت مضر تھا … اور دوسرے فریق [ہندوؤں] کے لیے بھی کچھ زیادہ مفید نہ تھا۔‘‘


علیگڑھ میں اُردو ڈیفنس ایسوسی ایشن قائم ہوئی تاکہ اس سلسلے میں مسلمانوں کا مطالبہ حکومت تک پہنچایا جائے۔

اگست 1900 میں لکھنؤ میں اس کے ایک جلسے میں نواب محسن الملک نے کہا:

“مجھے ہرگز یقین نہیں ہے کہ گورنمنٹ ہماری زبان کو مرنے دے گی، بلکہ اس کو زندہ رکھے گی اور وہ کبھی مرنے نہ پائے گی مگر اس میں کچھ شبہ نہیں کہ جو کوشش اس کے مارنے کی دوسری طرف سے ہو رہی ہے اگر وہ برابر جاری رہی تو آیندہ کسی وقت ہماری زبان کو صدمہ پہنچے گا۔ یہی خوف ہے جس کے لیے یہ  کوششیں ہو رہی ہیں تاکہ ہم اپنی زبان کو زندہ رکھ سکیں اور اگر خدانخواستہ وہ وقت آوے کہ اس کو زندہ نہ رکھ سکیں تو اس کا جنازہ تو دھوم سے نکالیں ع

عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے”

یو پی میں اُردو کی بجائے ہندی رائج ہو گئی جس کے بعد یہ ایسوسی ایشن بھی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔ لیکن اس دوران مسلمانوں میں اپنی سیاسی حالت کا احساس   بہت شدت سے بیدار ہوا اور یہ سوال اُبھر کر سامنے آیا کہ اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔



1903 میں وائسرئے لارڈ کرزن نے اعلان کیا کہ بنگال کا صوبہ بہت بڑا ہے۔ اس لیے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

بنگال میں اُس وقت ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ تقسیم  کا مطلب تھا کہ بنگال کے مشرقی حصے پر مشتمل ایک نیا صوبہ وجود میں آئے گا اور وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو گی۔ تقسیم کے خلاف ہندوؤں کی طرف سے سخت احتجاج ہوا لیکن 1904 میں تقسیم ہو گئی اور 1911 تک رہی۔

تقسیمِ بنگال کے خلاف احتجاج کے دوران ہندوستانی وطنیت کا احساس شدت کے ساتھ ابھرا۔



1904 میں کانگرس کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آسام کے ریٹائرڈ چیف کمشنر سر ہنری کاٹن نے کہا:

’’وہ بڑا سیاسی مسئلہ کیا ہے جو آپ کے سامنے ہے؟ اُس تحریک کے حقیقی معنی کیا ہیں جس ہندوستان میں رہنے والوں کی مختلف قوّتوں کو جس چیز نے وحدت بخشی ہے وہ تعلیم ہی ہے، لیکن صرف وہ تعلیم جو انگریزی طریقے اور مغربی تہذیب کے خطوط پر اُستوار ہے۔‘‘


یہ الفاظ اس لیے اہم ہیں کہ یہاں کانگرس کا ایک صدر کہہ رہا ہے کہ ہندوستان کی وحدت انگریزی تعلیم کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے (اس زمانے میں یہ بات کانگرس کے جلسوں میں عام طور پر کہی جاتی تھی)۔

ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ اس تعلیم نے تاریخ کے بارے میں ایک غیرحقیقی رویے کو فروغ دیا تھا۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی وحدت اور ہندوستانی وطنیت کا نیا احساس تاریخ کے بارے میں ایک غلط رویے پر قائم تھا۔

چنانچہ جیسے جیسے یہ احساس بڑھا، ہندوستان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا گیا، جیسا کہ ہم آیندہ اقساط میں دیکھیں گے۔


1904 ہی میں دو نغمے ہندوستان کے نئے احساس کے ترجمان بن گئے۔

ان میں سے ایک اقبال کی وہ نظم تھی جو ستمبر اور اکتوبر میں اُردو کے بعض رسالوں میں شائع ہوئی:

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا



دوسرا گیت ’’بندے ماترم‘‘ تھا۔ یہ بنگالی میں تھا اور اِسے دسمبر میں کانگرس کے اجلاس میں ترانے کی طرح گایا گیا:

ماں! میں تیرے آگے جھکتا ہوں
رواں بہتی ندیوں والی
باغوں کی روشنی سے چمکتی ہوئی
مسرت کی ٹھنڈی ہواؤں والی
پراسرار کھیت لہلہاتے ہیں، اے ماں شکتی والی، اے ماں آزاد!



مسلمانوں میں، خصوصاً بنگال میں، تقسیم کی حمایت میں تحریک چلی کیونکہ نیا صوبہ بننے سے مسلمان فائدے میں رہے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ یہ صوبہ ختم ہو جائے۔

ہندوؤں نے انگریزی مصنوعات بالخصوص کپڑے کے خلاف سودیشی تحریک بھی شروع کی تھی اور اُس کی وجہ سے بھی مسلمان تاجروں کو نقصان پہنچ رہا تھا۔

نوجوان اقبال اس وقت اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان جا چکے تھے۔ ایک ہندوستانی اخبار نے اُن کی رائے دریافت کی تو اُنہوں نے اپنے جواب میں لکھا کہ سودیشی تحریک مفید ہے کیونکہ ’’کوئی ملک سیاسی آزادی حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ پہلے اس کے اقتصادی حالات درست نہ ہو جائیں۔‘‘ لیکن انہوں نے انگریزی مصنوعات کے بائیکاٹ اور قانون شکنی جیسے اقدامات کی واضح الفاظ میں مذمت کی۔ بنگال کے مسلمان بھی ان اقدامات کی مخالفت کر رہے تھے۔ اس لحاظ سے اقبال نے بنگالی مسلمانوں کے مؤقف کی تائید میں یہ زبردست دلیل پیش کر دی کہ:

“سیاسی آزادی کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ بغیر دام دئیے مل جائے۔ انگلستان کی سرزمین کے ہر ذرّے میں اُن لوگوں کا خون چمکتا ہوا نظر آتا ہے جنہوں نے سیاسی حقوق کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔ باغیوں کی طرح نہیں بلکہ ان لوگوں کی طرح جن کے دلوں میں اپنے وطن کے قانون اور رسول کی عزّت ہوتی ہے اور جو اپنے گراں قدر خون کے قطرے قانون کی تائید میں بہاتے ہیں نہ اس کی تردید اور مخالفت میں۔ میرا تو یہ مذہب ہے کہ جو قوم خود آزادی کی دلدادہ ہو وہ اوروں کی آزادی کو رشک کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتی اور انگریزوں کی معاشرت دیکھ کر بھی میرے اِس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ ہاں ہم لوگوں میں اس کی قابلیت ہونا ضروری ہے۔”



1906 میں برطانیہ میں لبرل پارٹی کی حکومت قائم ہوئی جس کے بعض اقدامات کو کانگرس کی فتح سمجھا گیا۔ نئے وزیر ہند لارڈ مارلے نے پارلیمنٹ میں کہا:

’’اعلیٰ عہدوں پر ہندوستانیوں کے تقرر کے حوالے سے، میرے خیال میں، ایک پیش رفت — ایک واضح اور دوٹوک پیش رفت — ہونی چاہیے جس کا مقصد یہ ہو کہ اہل اور قابل مقامی افراد کو بھی انتظامیہ  کی اونچی اسامیوں تک رسائی کے وہی مواقع فراہم کر دئیے جائیں جو ہمارے ہموطنوں کو ملتے ہیں۔‘‘

محسن ُالملک کے پاس ملک بھر سے خطوط آنے لگے کہ مسلمانوں کو  بھی اپنے سیاسی حقوق کی فکر ہونی چاہیے اور اپنے نمایندے منتخب کرنے کا بندوبست کرنا چاہیے۔


سر سید کے ایک اور قریبی ساتھی نواب مولوی مشتاق علی خاں وقار الملک پہلے ہیان معاملات میں سرگرم تھے۔ محسن الملک نے ان سے مشورہ کیا۔

علیگڑھ میں ایک کمیٹی بلائی گئی۔ اُس کے فیصلے کے مطابق  ملک بھر کے نمایاں مسلمانوں اور مسلم تنظیموں کی آرأ جمع کر کے ایک عرضداشت ترتیب دی گئی اور پانچ ہزار مسلمانوں کے دستخط حاصل کیے گئے۔

اس ے بعد یہ یادداشت انگریزی حکومت کے موسمِ گرما کے دارالحکومت شملہ میں وائسرائے کی خدمت میں پیش کر دی گئی۔



وفد کی قیادت سر آغا خاں سوئم نے کی۔ عرضداشت میں کہا گیا تھا:

“جو طریقہ نیابت و نمایندگی کا یورپ میں رائج ہے وہ اہلِ ہند کے لیے بالکل نیا ہے اور حقیقت یہ  ہے کہ ہماری قوم کے بعض دوراندیش افراد کا خیال ہے کہ اس طریقہ کو ہندوستان کی موجودہ تمدنی اور سیاسی حالت پر کامیابی کے ساتھ منطبق کرنے کے لیے نہایت حزم و احتیاط و مآل اندیشی سے کام لینا پڑے گا جو اگر نہ لیا گیا تو منجملہ اور خرابیوں کے ایک بہت بڑی خرابی یہ پیش آئے گی کہ ہمارے قومی اغراض کا سیاہ و سفید ایک ایسی جماعت کے حوالے ہو  جائے گا جسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔


لندن ٹائمز نے لکھا کہ اِس وفد نے ’’مسلمانوں کی بیس سالہ سیاسی خاموشی کو توڑا ہے، وہ بیس سال جس کے دوران میں مسلمان سر سید احمد کی اِس نصیحت پر وفاداری کے ساتھ قائم رہے کہ وہ اپنے آپ کو سیاسی تحریک [ایجی ٹیشن] میں شریک نہ ہونے دیں گے۔ اگرچہ اب انہوں نے منظم طور پر سیاسی کام شروع کیا ہے لیکن حقیقی معنوں میں وہ انہی کے مشورے پر پوری طرح چل رہے ہیں۔‘‘


چت رنجن داس، جن کا ذکر پہلے ایک قسط میں ہو چکا ہے، ایک پرجوش نوجوان کے طور پر اُس سودیشی تحریک میں شامل تھے جس کی مخالفت کرنے والوں نے مسلم لیگ قائم کی۔ لیکن دس گیارہ سال بعد اُنہوں نے بھی کہا:

“مجھے یاد نہیں ہے کہ اُس وقت میں  نے کیا محسوس کیا تھا لیکن اب مجھے نظر آتا ہے کہ وہ رویہ جو مسلمانوں نے اختیار کیاتھا — وہی مخالفت جو وہ کر رہے تھے — وہ اُن کی قومی بیداری کا نتیجہ تھا۔ اُس زمانے میں ہم نواب سلیم اللہ مرحوم کے کام کی تحقیر کرتے تھے کیونکہ انہوں نے بنگال میں سودیشی تحریک کے خلاف مسلمانوں کو منظم کیا تھا۔ اب میں ایسا نہیں کرتا کیونکہ   اُس سرگرمی کی صورت جو بھی رہی ہو، بہرحال نواب سلیم اللہ  نے مسلمانوں کو منظم کر دیا۔ وہ قوم کی رُوح تھی جو اُس لمحے مسلمانوں  میں بول اٹھی۔ یہ نام ایک دفعہ بیدار ہو جائے تو مجھے اِس سے غرض نہیں ہے کہ کیسے بیدار ہوا تھا۔ اِسے بیدار ہونے دیجیے، اس میں وسعت خود ہی آ جائے گی۔ ہر بات جو سچائی  پر مبنی ہے وہ قومی شعور کا حصہ ہے۔”



یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ عین اس وقت دوسرے اسلامی ممالک میں بھی سیاسی بیداری واقع ہو رہی تھی۔ ایران میں عوام اور علمائے کرام کے مطالبے پر بادشاہ پہلی دفعہ ملک کے لیے ایک آئین بنانے پر محبور ہوا۔ چنانچہ ایران کی تاریخ میں پہلی دفعہ جدید طرز کے انتخاب ہوئے اور پارلیمنٹ وجود میں آئی۔

ترکی اور مصر میں بھی اسی قسم کی تحریکیں چل رہی تھی۔


محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بیسویں اجلاس کے آخر میں، جو دسمبر 1906 میں ڈھاکہ میں ہوا، آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔

اس کے قیام کی قرارداد پیش کرتے ہوئے ڈھاکہ کے نواب سلیم اللہ خاں نے کہا:

“جنہوں نے ہمارے حالات کا زیادہ  گہرا مطالعہ کیا ہے وہ اس نئی تحریک کو نیا آغاز نہیں بلکہ راستے کا ایک نیا موڑ سمجھیں گے۔ ابھی کل شام ہی ہم نے اپنی ایجوکیشنل کانفرنس کے بیسویں اجلاس کا کام ختم کیا، اور اگر سر سید احمد خاں مرحوم کی اس سے پہلے کی کوششیں بھی نظر میں رکھی جائیں تو ہماری اِس وقت کی کاروائی اُس کام کا ایک قدرتی مرحلہ ہے جو تقریباً نصف صدی پہلے شروع  کیا گیا

“آج ہم زمانے کے تقاضے کے مطابق ایک ملّت کے طور پر سیاسی زندگی کا آغاز کر سکتےہیں۔ اسباب ایک مدّت سے تیار تھے لیکن صرف اب وقت آیا ہے کہ ہم اُن سے ایک ملّت کے تانے بانے بُن سکیں گے۔ اور لیگ کی روح ہمارے شاعر کی رُوح ہو گی جس نے کہا تھا:

آزادہ رَو ہُوں اور مِرا مسلک ہے صلحِ کُل
ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے”



ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سلیم اللہ نے پچھلے پچاس برس کی تاریخ کو دو مراحل میں تقسیم کیا:

      • 1858 سے 1886 تک ایک طرح سے تیاری کا زمانہ تھا۔ اس زمانے کی اہم بات سر سید احمد خاں کی کوششیں تھیں جو اُنہوں نے قوم کی محبت کو فروغ دینے کے لیے کیں۔  چنانچہ آزادی کی قسط نمبر 2، تمام انسانوں کی روح، میں اِسی مدّت کا احاطہ کیا گیا۔
      • 1887 سے 1906، سلیم اللہ کے مطابق وہ عرصہ تھا جب قوم نے ایک سفر کا آغاز کیا اور یہ عرصہ اس سفر کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس عرصے کی نمایاں خصوصیت محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی سرگرمیاں تھیں۔ آزادی کی موجودہ قسط، آزادی کی جستجو، اسی مدّت پر مبنی ہے۔

میں نے علامہ اقبال کی جو مفصل سوانح از سرِ نو لکھی ہے، اُس کی پہلی کتاب اقبال کی جستجو بھی اسی لحاظ سے 1906 پر ختم ہوتی ہے۔ چنانچہ 1858 سے 1906 کی وہ بہت سی تفصیلات جو یہاں اختصار کی وجہ سے پیش نہیں کی جا سکیں، وہاں مل جائیں گی۔ مجھے امید ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ کتاب شائع ہو جائے گی۔


اس کے علاوہ میری انگریزی تصنیف حیاتِ اقبال اور ہمارا عہد کے ابتدائیہ اور پہلے باب کی ترتیب بھی اسی کے مطابق ہے۔ ابتدائیہ 1886 پر ختم ہوتا ہے۔ پہلا باب 1887 سے 1906 کے عرصے پر محیط ہے۔ انگریزی دان قارئین مزید تفصیلات کے لیے اُس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔


جہاں تک مسلم لیگ کے قیام کا تعلق ہے، یہ ہماری تاریخ میں ایک اہم حقیقت کا انکشاف تھا۔ وہ اہم حقیقت یہ تھی کہ بالکل اسی طرح جیسے ایک فرد اپنی مرضی بتا سکتا ہے، قوم بھی اپنی مرضی بتا سکتی ہے۔

چنانچہ ہمیں اپنے مقاصد خود متعین کرنے کی بجائے قوم سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ کیونکہ قوم کی مرضی نہ کسی عقلی دلیل سے پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی جذباتیت کو دخل ہوتا ہے۔ قوم کی مرضی اور قوم کے ارادوں کا تعلق اُس گہرے راز سے ہوتا ہے جسے ہم زندگی کہتے ہیں:

عقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبُوں کارِ حیات
فکر بے نُور ترا، جذبِ عمل بے بنیاد
سخت مشکل ہے کہ روشن ہو شبِ تارِ حیات
خوب و ناخُوب عمل کی ہو گِرہ وا کیونکر
گر حیات آپ نہ ہو شارحِ اسرارِ حیات!

یہ نظم علامہ اقبال کی ہے۔ تعلیم نے ہماری آنکھوں پر جو پٹی باندھی ہے، اُسے اُتار کر دیکھیں تو صاف نظر آئے گا کہ اس نظم میں علامہ اقبال نے جو بات کہی ہے، فیاض ہاشمی نے اُسے بڑے ہی سادہ الفاظ میں اُس نغمے میں بیان کر دیا ہے جو قسط کے شروع میں پیش کیا گیا (اِس بات سے آپ کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ نغمے میں عشقِ مجازی کا انداز ہے۔ بھٹائی اور وارث شاہ کی ہیروئینیں بھی بظاہر محبوبِ مجازی ہی سے خطاب کیا کرتی ہیں اور فیاض بھی ایک صوفی شاعر تھے):

چُن لیا میں نے تمہیں، سارا جہاں رہنے دیا
پیار نہ کرنا یہ دل کہتا رہا، کہنے دیا

دُور رہ کر پاس ہو تم، اِس کرم کا شکریہ!
بِن ملے لُوٹا ہے تم نے، اِس ستم کا شکریہ!
تم نے میرے دل کو بھی میرا کہاں رہنے دیا!

کیا خبر تھی تم ملے تو زندگی مل جائے گی!
آہ کرنے والے ہونٹوں کو ہنسی مل جائے گی!
زندگی کو زندگی کا رازداں رہنے دیا!



اگلی قسط، “آزادی کا راستہ” میں 1907 سے 1926 کے واقعات پیش کیے جا رہے ہیں جن میں سے بعض اس لیے حیرت انگیز ثابت ہوں گے کہ آج ہم اُن سے بالکل بیخبر ہوئے بیٹھے ہیں۔


آج کی قسط کے حوالے سے اگر کوئی سوال ہے تو  کمنٹ کی صورت میں درج کر دیجیے۔

لیکن ایک سوال میں بھی آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ کے خیال میں آج کی قسط میں سب سے اہم بات کیا سامنے آئی ہے؟


 

“زندگی کے رازداں” پر 90 تبصرے

  1. By reading blog “Zindagi ke Raazdan”.I am much influence and able to know that points that i didnot read anywhere yet.
    I have
    come to this short conclusion that
    The way Sir Syed shaped his Aligarhby Movement he influenced subcontinent society and culture in multiple ways. This movement not only opened new horizons to Urdu language and literature, but also created a condition for developing new discourses and in a new idiom for larger appeal. He thus brought literature and intellectual preoccupations close to each other in order to bear upon the contemporary realities of life.  

    Sir Syed himself expressed his rational thoughts in a kind of prose that was simple, effortless, and natural. His associates also followed his prose style. All major intellectuals and writers like Khwaja Altaf Hussain Hali, Allama Shibli Nomani, Maulavi Nazeer Ahmad, and Maulavi Zakaullah drew inspiration from Sir Syed’s Aligarh Movement and enriched Urdu’s socio-literary culture.   

  2. میں نے آپ. کے اکثر بلاگز پڑھے ہیں. خوشی اس بات کی نہیں کہ آپ تاریخ کو ایک نئے سرے سے لکھ رہے ہیں بلکہ خوشی و مسرت اس بات کی ہے کہ آپ تاریخ جیسے خشک مضمون کو بھی رومانوی، شوخی اور رنگینی کا جامہ پہنا رہے ہیں. بہت کم ایسے لکھاری ہیں جو اپنے قلم کے ذریعے قاری کو راغب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں. ان میں آپ سر فہرست ہیں.
    اس بلاگ کو پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آزادی جیسی عظیم نعمت پانے کے لئے انفردی کوشش کوئی معنی نہیں رکھتی. اس کے لئے قومی اور اجتماعی سوچ و فکر لازمی جزو ہے.
    برصغیر میں محکوم قوم فقط مسلمان نہیں تھی بلکہ ہندو بھی محکوم تھے لیکن ہندع قوم پرستی کے نشے میں دھت مسلمان کو بھی نقصان پہنچا رہے تھے. جبکہ مسلمانوں کو سر سید جیسی عظیم شخصیت ملی تھی جو اجتماعیت پر زور دیتے تھے.
    مسلمان کی لڑائی بیک وقت تین قوتوں سے تھی. ایک تو وہ حاکمِ وقت قوم فرنگی سے بر سر پیکار تھے. دوسرا وہ ہندو قوم کے مستقبل میں محکومیت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے. تیسری قوت جو میرے محدود اندازے کے مطابق تعلیم و تربیت تھی. اُس وقت مسلمانوں کو مخالف سمت میں فرنگ کی تعلیمی پالیسی صف اول میں کھڑی تھیم جو مسلمانوں کو آنے والے وقت میں بھی محکوم بنا دیتی اگر ہمیں حقیقی معنوں میں رہنماء نہ ملے ہوتے.
    مسلمان قوم کا اصل سنگِ میل مسلیم کا قیام نہیں تھا بلکہ سر سید کے پیش کردہ فلسفے پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کرنا تھا. اس ضمن میں آپ کے سوال کا جواب بھی پشیدہ ہے. میرے خیال میں بلاگ کا سب سے اہم حصہ یہ تھا کہ مسلمان سر سید کے فلسفے کے مطابق ایک سیاسی قوت بن جائیں؛ ان کی نمائندگی واضح ہو جائے؛ مسلمان فرنگ اور ہنود کی سازشوں کو بھانپ لیں؛ اور برصغیر کے تمام مسلمان ایک مٹھی ہو کر اپنے اسلامی قومی تشخص کے لئے تھ و دو شروع کرے. اس سلسلے میں جب مسلم لیگ بنی اور مسلمان قوم کی تشخص کے لئے ایک واضح کوشش کا آغاز مسلم لیگ کی صورت میں کیا گیا تو اس سے واضح ہوگیا کہ سر سید نے ایک عرصہ پہلے جو کچھ کہا تھا وہی اصل راہ تھی جس پر چل کر مسلمان آذادی حاصل کر سکتے تھے. جس طرح ہندو رہنماؤں نے اس بات کا اقرار کیا تو واضح ہوجاتا ہے کہ سر سید ٹھیک فرمایا کرتے تھے.
    آزادی کا یہ سفر شاید مکمل ہی نہ ہوتا اگر ہم اپنے چنے ہوئے رہنماؤں پر بھروسہ نہ کرتے. یہ سب ہمارے لیڈرز کی کاوشوں کا ثمر تھا کہ ہم نے یہ سنگ میل عبور کیا. اس میں سر سید کے صاحب زادے سے لے کر علامہ اقبال اور قائد اعظم تک تمام عظیم ہستیاں قابل تحسین ہیں.
    ایک ضروری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے آج تک تاریخ کا جتنا مطالعہ کیا کہیں بھی سر سید کے صاحب زادے بارے کچھ خاص نہیں پڑھا. ہر جگہ فقط اتنا پڑھا کہ سر سید اپنے صاحب زادے کے ساتھ انگلستان گئے اور وہاں سے تعلیمی سٹرکچر یہاں لائے. آپ کے بلاگ کی توسط سے یہ انکشاف ہوا کہ سر سید کے صاحب زادے بھی ان عظیم ہستیوں میں شامل تھے. اس کے لئے شکریہ کہ آپ نے یہ حقائق واں کیے.
    کچھ سوالات ہیں اگر جواب ممکن ہوا تو کر دیجیے گا.
    جس طرح اقبال کا قوم آپ نے نقل کیا کہ ایک زندہ قوم اس لئے زندہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے مرے ہوؤں کو نہیں بھولتی. یہ بات بالکل ٹھیک ہے. لیکن روایتی مطالعہ پاکستان میں ان ہستیوں کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟ کونسے عوامل ہیں جو ان کو تاریخ پاکستان میں جگہ نہیں دیتے؟

    دوسرا سوال یہ ہے کہ میں ایک پشتون قوم سے تعلق رکھتا ہوں. یہ بجا ہے کہ پشتون لیڈرز قوم پرستی کے معاملے میں زرا تیز ہوتے ہیں. لیکن پھر بھی تاریخ پاکستان میں پشتون لیڈرز کے حوالے سے کچھ نہیں ملتا. یہ کیوں؟ پاکستان کی آزادی میں صرف خواص نے قربانیوں نہیں دی بلکہ عوام.بھی پیش پیش رہے ہیں. عوام کی قربانیوں کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟

    تیسرا سوال یہ ہے کہ روایتی مطالعہ پاکستان میں اقبال کو مفکر پاکستان کا درجہ دیا گیا ہے. لیکن آپ کے بلاگز پڑھ کر مجھ پر یہ حقیقی کھلی ہے کہ اصل فکر تو سر سید لے کر آئے تھے تو پھر ان کو ذکر کھل کر کیوں نہیں کیا جاتا؟

    اس کے علاوہ سوال یہ ہے کہ اقبال کو کردار کا غازی کہا جاتا ہے جبکہ تاریخ میں(میرے خیال میں) ان کے کردار کے بابت میں نے زیادہ کچھ نہیں پڑھا. میں اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کو گفتار کا غازی کہتا ہوں. اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کو بیدار کیا لیکن تحریک آزادی میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا تو پھر عام نصابی کتب میں ان کو اتنی جگہ کیوں دی جاتی ہے جبکہ آپ کے بلاگز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل ہیروز تو یہ ہیں؟
    میں نے یہ سوال اپنی کم علمی کی وجہ سے کیے ہیں. ہو سکے تو کچھ کتب کا حوالہ بھی ساتھ میں دیں تاکہ میں پڑھ سکوں اور اپنی اصل تاریخ سے واقفیت پا سکوں.
    شکریہ سر

  3. This blog is so informative. What I concluded after reading this blog is that a good leadership is necessary for nation building. In the past, leaders like Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah, Allama Iqbal, Maulana Zafar Ali khan, Sir Syed Ahmed Khan and many more leaders guided the Muslims of subcontinent and raised their voices against oppression for the Muslims. Sir Syed Ahmed Khan helped the muslims of sub Continent through education and founded many institutes for education because of his thinking that a nation can get prosperity by education only. A nation can do nothing without a good leadership.

  4. This blog mentioned the hidden factors behind the hate of muslims and hindu. also that our forefathers has done so much for pakistan our heros like quiad e azam, allama iqbal , sir syed ahmed khan. We can understand the importance of education for a nation, sir syed ahmed khan was one of the first persent who recognize the importance of education to get success and aligarh college is the best example of it. We should value the sacrifices of our forfather and value our nation

  5. (Mehwish khan roll number (22
    After reading this blog i came to know that Sir Syed Ahmed Khan was one of the greatest Muslim reformers of India. He interpreted Quran in the light of modern rationalism and science. His greatest achievement was the establishment of the Mohammedan Anglo Oriental College(Also known as Aligarh Muslim University) at Aligarh in 1875. Sir syed ahmed khan wanted a seperate nation because he believed that muslims and hindus are two seperate entities and the heros,language,culture,religion of muslims are totally different from hindus .Sir syed wanted a seperate nation where muslims could live their lives according to the
    teachings of islam. Sir Syed maintains a strong legacy in Pakistan and among Indian Muslims. He strongly influenced other Muslim leaders including Allama Iqbal and Jinnah. and We should remember the efforts of our true leaders who worked day and night for us and we should transmit their stories to next generation.

    1. برصغیر پاک و ہند میں ہماری محکومی اور پھر جدوجہد آزادی کی تاریخ ایک لحاظ سے بہت دکھا دینے والا اور خشک باب ہے لیکن جس شاعرانہ انداز میں آپ نے اس تاریخ کا احاطہ کیا ہے، اس کو پڑھ کر بر صغیر کے وہ سارے مناظر ذہن و خیال میں نمودار ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے اس تاریخ پر مبنی ایک زبردست فلم چل رہی ہو۔

      انتہائی پرکشش انداز میں تاریخ کے ان گوشوں کا تذکرہ ملتا ہے جو پہلے شاذو نادر ہی کسی نے بیان کیے ہیں اور بہت ساری ایسی باتوں سے واقف ہونے کا موقع ملا جن کے بارے میں تاریخ کی دوسری کتابیں خاموش ہیں۔

      خاص طور پر آپ نے سر سید کی خدمات کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ میرے جیسے قارئین کے لیے بلکل نیا ہے اور ان کی شخصیت کے بہت سارے ایسے پہلووں سے واقفیت حاصل ہوئی جن کے بارے میں ابھی تک لاعلم تھے۔

      میرے لیے اس بلاگ میں سب سے اہم حصہ وہ ہے جس میں حالی نے سرسید کی تجویز کے متعلق عام لوگوں کے رویے کی بات کی ہے۔

      سرسید کے بعض مذہبی عقائد ایسے تھے جن سے اکثر لوگ اختلاف کرتے تھے۔
      نتیجے کے طور پر وہ لوگ سرسید کے بہت مخالف تھے خاص طور پر مذہبی علماء اور دقیانوسی لوگ اکثر سرسید کی ہر تجویز کو ٹالتے تھے۔ لیکن جب سر سید نے مسلمانوں کو انڈین نیشنل کانگریس میں شامل نہ ہونے کی تجویز پیش کی تو سب کو یہ بات اتنی پسند آئی کہ سوائے چند لوگوں کے باقی سب نے سرسید کی حمایت کی۔
      اس کے پیچھے اسباب میں سے چند مسلمانوں اور فرنگیوں کے درمیان تاحال غلط فہمیوں اور غصے کا پایا جانا، کانگریس کے مطالبات کا مسلمانوں کی بہتری سے کوئی سروکار نہ ہونا اور کانگریسیوں کا ایجیٹیشن کا طریقہ کار اپنانا تھے۔

      الغرض اگلے بیس سالوں تک مسلمان عملی سیاست سے کافی دور رہے اور اپنی پوری توانائی تعلیم و تربیت پر مرکوز کی۔
      محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے علاوہ چھوٹے پیمانے پر بھی بہت ساری تنظیمیں فعال تھیں جو لوگوں میں اتحاد و اتفاق اور ہم آہنگی کے ذرائع بنیں۔
      اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں اپنے حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا ہوگئی اور تربیت پانے کے بعد انہوں نے بہ طریق احسن تحریک آزادی میں حصہ لیا جو قیام پاکستان پر منتج ہوا۔

  6. بلاگ “زندگی کے رازداں” میں سب سے اہم بات مسلمانوں کا اپنے عظیم لیڈر سر سید احمد خان کے کوشش کو رائیگاں نہ جانے دینا. اس بلاگ کے مطابق سر سید احمد خان کی وفات کے بعد اگر مسلمان ان کی بتائی گئی باتوں اور ای الگ قوم کے مطالبے کو نظرانداز کر دیتے تو ممکن تھا کہ آج بھی ہم غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہوتے. سر سید احمد خان کی کوششیں ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہیں تھیں. سر سید کی وفات کے بعد مسلمان اپنے نظریے کو بھلانے لگے تو ان کے صاحبزادے محموداحمد نے مسلمانوں کو شعور دیا اس کے ساتھ ہی سب سے اہم شخصیت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالا

  7. Bushra Gulfam
    12
    سر سید احمد خان اور تمام لیڈروں کی کاوشیں پاکستان کے لیے ناقابل فراموش ہیں اس بلاگ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دو قومی نظریہ کوئی فوری فیصلہ فوری مطالبہ نہ تھا بلکہ سرسید احمد خان نے بہت زیادہ دیکھنے سوچنے سمجھنے اور غوروفکر کے بعد یہ مطالبہ کیا کہ ہندو اور مسلمان ایک قوم نہیں ہیں کیونکہ ان کا مذہب ان کی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہے یہ دونوں بحیثیت قوم ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں اور ہندو مسلمانوں پر اپنی زبان اور اپنے مذہب کو مسلط کرنا چاہتے ہیں سرسید احمد خان کو جب اس بات کا احساس ہوا کہ ہندو محض اپنا فائدہ چاہتے ہیں اور مسلمانوں پر اپنی زبان اور اپنا مذہب مسلط کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد رکھی اور دو قومی نظریہ کی یہ بنیاد علامہ محمد اقبال مولانا محمد علی جوہر اور قائداعظم تک پہنچے علامہ محمد اقبال نے اس کا خواب دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اس کو عملی جامہ پہنایا اور آج پاکستان ہمارے پاس حقیقت میں موجود ہے لیکن آج بھی پاکستان وہ ریاست نہ بن سکا جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا سرسید احمد خان کا کہنا تھا کہ عوام کے بارے میں لیے جانے والے ہر فیصلے میں عوام بھی رضامندی ہونا بہت ضروری ہے فیصلے میں عوام کی رضامندی ہونا بہت ضروری ہے ان کا کہنا تھا کہ ایک اچھا لیڈر وہی ہوتا ہے کہ جو اپنی عوام کو خوش رکھ سکے اور ان کے تمام حقوق کو پورا کرسکے اور ہر فیصلے میں ان کی رضامندی کو شامل کرے اور بحیثیت عوام اور بحیثیت مسلمان اور انسان ہر انسان کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی زندگی اور اپنے بارے میں فیصلہ کر سکے ایک اچھا لیڈر وہی ہے جو کہ اپنی عوام کے بارے میں سوچیں اور اپنی عوام کے تیل کے لیے جانے والے ہیں میں ان کی رضامندی کو شامل کرے اسی موقع پر میڈم نورجہاں جوکہ ایک پاکستان کی بہت نامی گرامی انسان ہیں انہوں نے اپنا ایک نغمہ پیش کیا جو کہ لوگوں میں بہت مقبول ہوا اس نغمے کا مقصد بھی مسلمانوں میں احساس شعور پیدا کرنا تھا اور تمام وہ لیڈرز اوکے آج پاکستانیوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں ان کو ان کے ماضی سے ایک سنہری مثال کر روشناس کروانا تھا تاکہ جس پاکستان کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا وہ سچ ہو سکے

  8. I found this blog very informative. The most important thing is that the nation should be guided by some leaders and good decisions are always done by true leaders with the vote of their nation. Consultations among people are very important and play a great role in bringing people together. A true leader is the one who can make true nation
    We should learn to respect our people and we should remember the efforts of our unsung heroes and transmitt their stories to next generation
    In my opinion if a nation wants to succeed then it should have a good leader who can acknowledge his nation as a whole. Also the works of Sir Syed Ahmed khan for his nation are praiseworthy. He was the first Muslim leader who realized the importance of education for his people. Also Allama Muhammad Iqbal act as a milestone for his nation. His poetry played a very important role in creating awareness among muslims

  9. This is an amazing book which unfolds all incidents that happened in history connecting to the formation of pakistan. According to me, the demand of Separate electorate was the major turnover. As it gave muslims
    Freedom from the interruption of Hindus
    Protected interests of Muslims
    And Provided the Muslims to have power in legislation and politics

  10. After reading this blog, I’ve come to the conclusion that it is essential for each and every individual to take part in the betterment and prosperity of their nation. For this purpose, our leaders have set many examples in the past. It is the responsibility of the leaders to create awareness among the people and guide them about what is better for them and what is not. And that is exactly what Sir Syed Ahmed Khan did in his time. He was the first one to realize what problems the Muslims were in, after the arrival of British. As the British took over everything, from the educational system to the change in traditions and customs and how they wanted everybody to follow in their footsteps, it was Sir Syed who guided the Muslims on what to do in this situation. He made them realize the importance of modern education and how only after receiving it they would be able to compete with Hindus and the British. Every individual must have an opinion and education is necessary to have a correct opinion. Now where the Muslims made efforts for their rights, there they also had great leaders all along the way to guide them. Allama Iqbal, Quaid-e-Azam and many other leaders united the people on one platform and became their voice, to fight for their rights. Also, it is necessary to consult people so that they can make the correct decision and choose wisely. With the help of such great leaders and under their guidance, the Muslims worked hard, with determination and in the end finally got their wish for a separate homeland.

  11. This is actually a very informative blog. After reading this blog I have learned so many new things like we should learn to respect others and especially our own peoples. We forget our own family members after their death and also our unsung heroes like Syed Mehmood, son of Sir Syed, who addressed the problem of lack of true muslim representation in politics. We should read and learn their efforts and try to promote their stories to our next generations. It is quite true what Allam Iqbal said ,that a nation is alive only when it does not forget its death and we have already forgotten our spiritual , political and all of our guiding intelactual leaders . .
    In addition to all this, I really found the idea of Mohsin ul Mulk quite thought provoking, when he said that Hazrat Adam (A.S) became aware of right and wrong when he tasted the fruit from the forbidden tree and thus in a similar way muslims became aware of their declining situation when they got access to the once forbidden..

  12. As i read the blog, i came to know that we should always be indebted to our great leaders like Allama Iqbal, Sur Syed Ahmad Khan, Quaid-e-Azam and many more. The main crux of this blog is that we should consider the sacrifices of our ancestors and be thankful to them always and forever for if we’re living in Pakistan, that’s for the fruit of efforts of these leaders.
    One thing which is to be mentioned is the definition of leader.
    A leader is always a Faithful , honest and compromising. He should be able to lead the nation with his leadership skills and enough intellectual to guide them the right path. In this blog, it is mentioned that the nations crucially need their history. Because history impacts the long lasting effects. The nation who omitted their history, perished from the map. Our leader’s works are unforgettable. They had been through thick and thin to ease ourselves. So why not we give them return.
    The leader is the one who guides the nation as our hreat leaders did and make new paths for their nation to follow. Finally, it was said that the Muslims and Hindus were two different nations which had to be separated. But right now, the need of hour is to consider our history, don’t let that happen we’d be perished from the map.

  13. اس بلوگ کے بعد مجھے یہ لگتا ہے کہ جب تک یہ قوم یہ عوام خود کو تبدیل نہیں کرے گی، جب تک یہ خود سب کے سب اکٹھے ہو کر اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کرتے تب تک ان پر کتنے ہی ایماندار حکمران نافذ کر دیئے جائیں ان کو کتنا ہی سمجھا لیا جائے یہ کبھی نہیں بدلیں گے۔
    سر سید احمد خان جیسے لوگوں اور انکے تصور عشق کی آج بھی ضرورت ہے بلکہ شائد پہلے سا زیادہ ہے۔ 
    سیّد کی تمام کوششوں کے پیچھے جو مرکزی خیال کارفرما تھا وہ غربت اور خوف سے آزاد معاشرے کا قیام تھا اور یہ خیال اُس زمانے سے آج تک ’’تجربےکے ساتھ ساتھ‘‘ بڑھ رہا ہے۔” اقبال کے نزدیک سیّد کے خیالات اسی قسم کے تھے جو ’’ایک سے زیادہ جنریشنز‘‘ کے ذریعے بتدریج اپنے تمام امکانات کوظاہر کریں۔

  14. This blog is so informative. What I concluded after reading this blog is that a good leadership is necessary for nation building. In the past, leaders like Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah, Allama Iqbal, Maulana Zafar Ali khan, Sir Syed Ahmed Khan and many more leaders guided the Muslims of subcontinent and raised their voices against oppression for the Muslims. Sir Syed Ahmed Khan helped the muslims of sub Continent through education and founded many institutes for education because of his thinking that a nation can get prosperity by education only. A nation can do nothing without a good leadership.

  15. وقت کی ندی میں بہنے والی کسی بھی قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالات کے تقاضوں کے مطابق اپنی حالت سنوارے اور خود کو اپنے عصر کے مطابق ہم آہنگ کرے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک قوم کا بحثیت قوم اپنا تشخص برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم سے اس کی شناخت چھین لی گئی اس کی داستاں تک بھی نہ رہی داستانوں میں ۔ کسی زبان کو ایک مخصوص قوم کی زبان قرار دے کر اس پر پابندی لگانا اور درآمد شدہ تعلیمی نظام مسلط کرنا اس قوم کی شناخت پر براہ راست حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عوام کے دلوں میں احساس کمتری کے بیج بوتا ہے جو بعدازاں تناور درخت بن کر زوال کا سبب بنتے ہیں۔ سرسید اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔ یہ ایک المیہ کہ ہم علم حاصل کرتے ہیں مگر علم سیکھتے نہیں ہیں۔ پڑھنے اور سیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔اور جہاں بات تاریخ کی ہو تو یہ معاملہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے کیونکہ جو قومیں تاریخ کو مسخ کرتی ہیں تاریخ ان کو مسخ کر دیتی ہے۔ اقبال نے جاوید کے نام نظم میں کہا ہے کہ
    اٹھا نہ شیشہ گران فرنگ کے احساں
    سفال ہند سے مینہ و جام پیدا کر
    سرسید اور ان کے رفقائے کار نے ثابت کیا کہ کسی کارواں کی کامیابی کا معیار اس کا ہنگامہ خیز ہونا نہیں بلکہ اپنے مقصد کو حاصل کرنا ہے۔ سرسید کی جانب سے مسلمانوں کو کانگرس میں شمولیت سے روکنا، اردو زبان کی بقا کے لیے جدوجہد کرنا، علی گڑھ کالج کی شکل میں بامعیار تعلیمی ادارہ قائم کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ بہر صورت مسلمانوں کی الگ پہچان کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ جہاں تقسیم بنگال کے بعد ہندو سودیشی تحریک چلا رہے تھے وہاں نواب سلیم اللہ جیسے لیڈر مسلمانوں کو متحد رہنے اور اقتصادی ترقی کا درس دے رہے تھے.ایک عام لیڈر اور بڑے لیڈر میں یہی تو فرق ہے عام لیڈروں کی بصیرت وقتی اور نا پائیدار ہوتی ہے جبکہ بڑے لیڈروں کی سوچ صدیوں اور دہائیوں پر محیط ہوتی ہے۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طاقتور سچائی بن کر ابھرتی ہے۔ تماشہ ایک سا ہوتا ہے مگر دیکھتا ہر کوئی اپنی آنکھ سے ہے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب بہار کی آمد آمد تھی اور خزاں کا موسم آہستہ آہستہ اترتا چلا جا رہا تھا جس کے اثرات دیگر مسلم ممالک میں بھی مختلف تحریکوں کی شکل میں نظر آرہے تھے۔یہاں اس بات کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ دو قومی نظریہ کوئی فوری مطالبہ نہ تھا بلکہ سرسید کا لگایا ہوا یہ پودا بعدازاں مولانا محمد علی جوہر، شوکت علی، اقبال اور قائداعظم کی آبیاری کے باعث گلشن رنگیں میں تبدیل ہوا اور اپنے ارتقائی منازل طے کرتا ہوا منطقی انجام پر پہنچا۔

  16. MEERAB SHEIKH
    ROLL NO 44
    The conclusion of this blog is regarding the hard work and efforts of the leaders of that era .Most famous leaders like sir syed Ahmed Khan contributed for Muslims in educational aspects and for the desperate homeland .Sir syed Ahmed Khan also supported Muslims in urdu Hindi controversy movement .The main crux was that an appropriate leader is the one who take the whole nation together and the opinions are also made by the public and then further implemented by the leaders of the era .Quaid e Azam and Allama Iqbal was also the prominent leaders and the heart of all the hardships and struggles to get a separate homeland .Allama Iqbal the poet of the sub continent at that time took Muslims and their opinions with them by his poetry and woke up Muslims by it .The contributions of all these leaders are remarkable for the suppersed Muslims pointed out by the cruel British and Hindus. Today if we have Pakistan is the reward of all the admirable efforts of the leaders .

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے