آزادی کی شام



یہ “آزادی” کی دسویں قسط ہے، اور اگست 1947 کے بارے میں ہے۔ اگلی قسط آخری ہو گی۔

سب سے پہلے ان تمام لوگوں کا شُکریہ جنہوں نے کتاب “آزادی” خریدنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ تقریباً ایک تہائی اسٹاک چھپنے سے پہلے ہی فروخت ہو گیا ہے۔ جیسا کہ پچھلی دفعہ عرض کیا تھا، صفحات کی تعداد 176 اور قیمت 500 روپے ہے۔ ناشر ٹاپ لائن پبلشرز ہیں۔ اپنی کاپی بُک کروانے کے لیے khurramsdesk@gmail.com پر رابطہ کیجیے۔ کتاب پریس میں بھیجی جا چکی ہے۔ اندازہ ہے کہ 26 جولائی تک چَھپ کر آ جائے گی۔


آج کی قسط سے پہلے بھی فیاض ہاشمی کا ایک نغمہ پیش کیا جا رہا ہے، “آج جانے کی ضد نہ کرو”۔ فلم “بادل اور بجلی” (1972) کے لیے اِس کی موسیقی سہیل رعنا نے بنائی تھی اور حبیب ولی محمد کی آواز میں لافانی ہوجانے کے بعد نجانے کس کس کی آواز میں گایا جا چکا ہے، اور گایا جا رہا ہے۔

آج کی قسط شروع کرنے سے پہلے یہ تصوّر کیجیے کہ ہم اگست 1947 کی اُس رات میں واپس پہنچ گئے ہیں، جب برصغیر کو آزادی ملی، اور اِس سوال کا جواب دیجیے کہ کیا یہ نغمہ اُن جذبات کی ترجمانی کر سکتا ہے جو اُس رات اِس خطّے کے مسلمانوں نے ایک دوسرے کے لیے محسوس کیے ہوں گے؟




7 اگست 1947 کو قائداعظم کراچی پہنچے جو نئی ریاست کا دارالحکومت بننے والا تھا۔ دو روز بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

’’میں نے یہ کام تنہا نہیں کیا ہے۔ میرے ساتھ لاکھوں تھے، خاص طور پر عوام۔ پڑھا لکھا طبقہ آخر میں آیا؛ عوام پہلے آئے۔ ‘‘



10 اگست 1947 کو کراچی میں صبح دس بجے پاکستان کی دستورساز اسمبلی کا پہلا اجلاس شروع ہوا۔ اس وقت تک اس ریاست میں سندھ، بلوچستان، صوبۂ سرحد، مغربی پنجاب اور مشرقی بنگال شامل ہو چکے تھے اور دیسی ریاستوں کا فیصلہ ہونا باقی تھا۔ کراچی دارالحکومت بنا تھا اور سندھ سیکرٹیریٹ کی عمارت میں دستورساز اسمبلی کے اجلاس ہو نے تھے۔

 سب سے پہلے لیاقت علی خاں نے اسمبلی کے عارضی چئیرمین کے طور پر جوگندرناتھ منڈل کا نام تجویز کیا۔ وہ مشرقی بنگال کے اچھوت رہنما تھے۔ خواجہ ناظم الدین نے تائید کی۔ منڈل نے صدارت قبول کرتے ہوئے تقریر کی جو کاروائی میں ’’چیئرمین  کا افتتاحی خطبہ‘‘ کے عنوان سے درج ہوئی۔ منڈل نے کہا:

’’خواتین و حضرات! کسی اور چیز سے پہلے میں خدائے بزرگ و برتر کے سامنے اپنا سر جھکانا چاہوں گا اس کی اس مہربانی کے لیے کہ اُس نے ہم سب کو یہاں جمع ہونے اور اُس سے یہ دعا کرنے کا موقع دیا ہے کہ ہمیں سیدھا راستہ دکھائے۔

“اُس کے بعد خواتین و حضرات، میں اس اعزاز کے لیے آپ کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو آپ نے پاکستان کی دستورساز اسمبلی کے تاریخی، پہلے، افتتاحی اجلاس کا چیئرمین منتخب کر کے مجھے بخشا ہے … 

“آج، حضرات، مجھے یہ کہتے ہوئے بڑی مسّرت ہو رہی ہے کہ اقلیتی برادری کے ایک رُکن کا چیئرمین منتخب ہونا پاکستان کی پیدایش پر بہت اچھا شگون ہے، کیونکہ آج پاکستان ایک اقلیتی برادری، ہندوستان کے مسلمانوں، کے مستقل اور جائز مطالبے کا نتیجہ ہے۔

“میں اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ صرف پاکستان اور ہندوستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا پاکستان کی دستورساز اسمبلی کی طرف دیکھے گی اور خود ہی دیکھ لے گی کہ وہ ملّتِ اسلامیہ جو اپنے جائز حقوق و اختیارات حاصل کرنے میں ثابت قدم تھی اور پاکستان کی علیحدہ ریاست حاصل کرنے میں ثابت قدم تھی، پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے ساتھ صرف عدل و انصاف ہی نہیں بلکہ فراخدلی کے برتاؤ میں کبھی کمی نہیں کرے گی، اور یہ میرے لیے سب سے زیادہ طمانیت کی بات ہے۔

“میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اقلیتی برادری  پر بھی لازم ہے کہ اپنا زاویۂ نگاہ تبدیل کرے اور پاکستان میں رہنے والی تمام ملّتوں کو چاہیئے کہ اب ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ عدم اعتماد، نفرت، دشمنی اور رقابت کی جگہ اب اعتماد، محبت، دوستی اور باہمی تعاون کو ملنی چاہیے۔”

کانگرس کے کچھ ارکان بھی اسمبلی میں شامل تھے۔ انہوں نے کاروائی پر کچھ اعتراض اٹھایا جس پر اُنہیں سمجھایا گیا کہ پہلے رجسٹر میں اسمبلی کے ارکان کے ناموں کا اندراج ہو نے دیا جائے۔


سب سے پہلے جوگندر ناتھ منڈل نے، اُن کے بعد قائداعظم، لیاقت علی خاں، عبداللہ محمود، خواجہ ناظم الدین اور پھر دوسروں نے اپنے نام درج کیے۔

پہلے دن صرف رسمی ضابطوں سے متعلق قراردادیں پیش کی گئیں اور کہا گیا کہ اسمبلی کے مستقل صدر کے عہدے کے اُمیدوار نامزدگی کے کاغذات شام چار بجے تک جمع کروا دیں۔



صرف قائداعظم کا نام پیش کیا گیا اور اگلے دن، 11 اگست 1947 کے اجلاس میں، ان کے انتخاب کے بعد منڈل نے کرسیٔ صدارت اُن کے سپرد کر دی۔ مبارکباد کی تقاریر لیاقت، کرن شنکر رائے، محمد ایوب کھوڑو، منڈل، ابوالقاسم خاں اور بیگم جہان آرا شاہنواز نے پیش کیں۔

شنکر کا تعلق کانگرس پارٹی سے تھا۔ انہوں نے مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ کہا:

“جہاں تک ہمارا تعلق ہے جناب، آپ کے ذہن میں جو پاکستان ہے اگر وہ ایک سیکولر جدید جمہوری ریاست ہے …  تو میں  آپ کو یقین دلاتا ہوں  کہ آپ کو ہمارا بھرپور تعاون حاصل ہو گا … صاف بات یہ ہے جناب کہ ہم خوش نہیں ہیں۔ ہم ہندوستان کی اِس تقسیم کی وجہ سے ناخوش ہیں۔ ہم پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے ناخوش ہیں۔ ہم بنگال کی تقسیم کی وجہ سے بھی ناخوش ہیں۔ لیکن چونکہ یہ بندوبست دونوں عظیم جماعتوں کے درمیان طے پا چکا ہے، ہم اسے وفاداری کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور وفاداری کے ساتھ اس کے لیے کام کریں گے۔”

قائداعظم نے اپنی تقریر میں ان باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا:

“تقسیم ہونا ضروری تھی … میں سمجھتا ہوں کہ کوئی اور حل نہیں تھا اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل کی تاریخ اس کے حق میں اپنا فیصلہ دے گی۔ اور مزید برآں، جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے، عملی تجربے سے یہ ثابت ہوتا جائے گا کہ یہ ہند کے آئینی مسائل کا واحد حل تھا۔

پھر بھی اس تقسیم میں یہ ناممکن تھا کہ ایک ڈومینین یا دوسرے میں اقلیتوں کا سوال پیدا نہ ہو… اب ہمیں کرنا کیا چاہیے؟ اب اگر ہم پاکستان کی اِس ریاست کو ہنستا بستا اور خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں  پوری طرح اور یکسوئی کے ساتھ اپنی توجہ لوگوں کی، اور خاص طور پر عوام اور غریبوں کی، بہبود پر دینی چاہیے …

جیسا کہ آپ جانتے ہیں، تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ کچھ وقت پہلے انگلستان  میں حالات اس سے کہیں زیادہ برے تھے جتنے آج ہند میں ہیں۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کو تکلیفیں پہنچا رہے تھے … وقت کے ساتھ ساتھ  انگلستان کے لوگوں کو حقیقت پسندی سے کام لینا پڑا اور اُن کے ملک کی حکومت کی طرف سے اُن پر جو ذمہ داریاں اور بار ڈالے گئے تھے، اُن سے عہدہ برا ہونا پڑا، اور وہ اس آگ میں سے ایک ایک قدم کر کے گزرے۔ آج آپ سچائی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ رومن کیتھولک اور پروٹسنٹنٹ وجود نہیں رکھتے۔ جو بات اب وجود رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص برطانیہ کا شہری ہے، ایک برابر کا شہری، اور وہ سب ایک قوم کے افراد ہیں۔

“اب، میرا خیال ہے کہ ہمیں اِس بات کو نصبُ العین کے طور پر سامنے رکھنا چاہیے اور آپ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو، ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی معنوں میں نہیں، کیونکہ وہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے، بلکہ سیاسی معنوں میں ایک ریاست کے شہریوں کے طور پر …

میرا رہنما اصول انصاف اور مکمل غیرجانبداری ہو گا، اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ  کی مدد اور تعاون کے ساتھ میں اُمید کر سکتا ہوں کہ پاکستان دنیا کی عظیم ترین قوموں میں سے ہو گا۔”

اسی اجلاس میں  لیاقت علی خاں نے پاکستان کا قومی پرچم پہلی دفعہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا:

“یہ پاکستانی قوم کا پرچم ہے، ریاستِ پاکستان کا جسے 15 اگست کو وجود میں آنا ہے …

“کسی بھی ملک کا پرچم صرف ایک کپڑے کا ٹکڑا نہیں ہوتا۔ اصل اہمیت اس کپڑے کی نہیں بلکہ اس کے معانی کی ہوتی ہے اور میں بلاخوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ یہ پرچم جسے آج اس ایوان میں پیش کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوا اس کے معانی اس پرچم کے تمام وفاداروں کی اخوت، آزادی اور مساوات کے ہوں گے …

“یہ پرچم، جنابِ صدر، میرے ذہن میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ دنیا کی تمام اقوام سے عزت حاصل کرے گا کیونکہ مجھے پورا اعتماد ہے کہ ایک دفعہ ریاستِ پاکستان قائم ہو جائے، ایک دفعہ ہمیں  سات کروڑ لوگوں کی تقدیر بنانے کا موقع مل جائے تو ہم ساری دنیا کو دکھا سکیں گے کہ اگرچہ ہم ایک نئی ریاست ہیں، پھر بھی ہم ایک ایسی ریاست ہیں جو پاکستان کے سات کروڑ کے شایانِ شان ہے … جنابِ صدر، یہ پرچم صرف پاکستانی قوم کے لیے آزادی کا پرچم نہیں ہو گا؛ یہ پرچم دنیا بھر میں امن  برقرار رکھنے میں مدد کرنے کے لیے امن کی علامت ہو گا۔”

کانگرسی ارکان نے پرچم پر اعتراضات کیے لیکن ایوان کی اکثریت نے ان کی قرارداد مسترد کر دی، جس کے بعد  کانگرس پارٹی کے نمایندے نے کہا کہ وہ پرچم کو قبول کرتے ہیں۔


12 اگست کے اجلاس میں  لیاقت علی خاں نے قرارداد پیش کی کہ سرکاری دستاویزات میں جناح  کو مخاطب کرنے کے لیے ’’قائداعظم محمد علی جناح‘‘ کے الفاظ استعمال کیے جائیں۔ کانگرسی نمایندوں نے اس پر بھی اعتراضات کیے لیکن اکثریت نے قرارداد کو منظور کیا۔



13 اگست کو وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کراچی آئے۔ ان کے اعزاز میں ڈنر دیا گیا جس میں قائداعظم نے شاہِ برطانیہ جارج ششم کا جامِ صحت تجویز کرتے ہوئے کہا:

“ملک معظم کی حکومت کا یہ فیصلہ اُس عظیم نصبُ العین کی تکمیل کا نشان قرار پائےگا جو دولتِ مشترکہ کی تشکیل کے ساتھ  اس مقررہ مقصد کے ساتھ پیش کیا  گیا تھا کہ تمام اقوام اور ممالک کو جو برطانوی سلطنت کا حصہ ہیں، مستقل اور خودمختار ریاستیں بنایا جائے جو کسی دوسری قوم کے تسلط سے آزاد ہوں۔

“جب سے حکومتِ ہند کو ملکہ وکٹوریہ نے، ایک عظیم اور نیک ملکہ نے، اپنے ہاتھ میں لیا … یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ  ہند کے بالآخر مستقل اور آزاد ریاست بننے کی منزل کی طرف رہنمائی کرنا برطانوی قوم کا ایک اہم مسئلہ اور ٹھوس مقصد ہو گا۔ میکالے کے زمانے سے ہی اس پالیسی پر عمل درآمد میں کبھی  اس اصول کے بارے میں کوئی سوال نہیں تھا لیکن یہ سوال ہمیشہ رہا کہ یہ کب اور کیسے ہو گا۔  اس عمل کے دوران تاجِ برطانیہ کی چار جنریشنوں کی حکومتوں کے ادوار میں آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کی رفتار پر بہت سے تنازعے  پیدا ہوئے اور اختلافِ رائے ہوا… لیکن  اس کے ساتھ ہی ہم برطانوی استعداد اور اُن برطانویوں کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتے جنہوں نے ایک صدی سے زیادہ اپنی بہترین سمجھ کے مطابق ہند پر حکومت کی اور زندگی کے بہت سے شعبوں میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں، خاص طور پر  عدلیہ کے نظام پر جو عوام کے حقوق اور آزادیوں  کے لیے سب سے بڑی پناہ اور محافظ رہا ہے۔

“شاہ جارج ششم کا زمانہ تاریخ میں رضاکارانہ طور پر اقتدار منتقل کرنے کے اِس فعل کے لیے یاد رکھا جائے گا …ایک قوم کی طرف سے اقتدار کو یوں مکمل طور پر کسی دوسری قوم کے سپرد کرنے کی کوئی اور مثال پوری دنیا کی تاریخ میں موجود نہیں ہے۔ یہ دولتِ مشترکہ کے عظیم نصبُ العین کا حصول اور تکمیل ہے جو اَب ہوئی ہے … [ہم عزت مآب لارڈ ماؤنٹ بیٹن، وزیراعظم مسٹر ایٹلی، اور ملک معظم کی حکومت اور برطانوی پارلیمنٹ کے تہِ دل سے مشکور ہیں]، اور سب سے بڑھ کر برطانوی قوم کے جس نے بڑے اشتیاق اور جان و دل  کے ساتھ ملک معظم کی حکومت کی شروع کی ہوئی اِس پالیسی کی حمایت کی کہ ہند کے عوام آزاد ہونے چاہئیں، اور یہ کہ ہند کے آئینی مسئلے کا واحد حل اسے پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کرنا تھا۔”




14 اگست کو جمعرات کے روز دستورساز اسمبلی میں انتقالِ اقتدار کی تقریب ہوئی جس میں وائسرائے نے شاہ جارج ششم کا پیغام پڑھ کر سنایا اور کہا، ’’ہم دوستوں کی طرح جدا ہو رہے ہیں جنہوں نے اختلافات کے باوجود بھی ایک دوسرے کی عزت اور احترام کرنا سیکھا ہے۔‘‘ قائداعظم نے بھی جوابی تقریر میں کہا، ’’جی ہاں، ہم دوستوں کی طرح جدا ہو رہے ہیں اور مجھے دل سے اُمید ہے کہ ہم دوست رہیں گے۔‘‘



اگرچہ پاکستان کے وجود میں آنے کی تاریخ اگلے دن یعنی 15 اگست تھی، اور اگلے دن ہی قائداعظم نے گورنر جنرل اور لیاقت علی خاں نے وزیراعظم کے طور پر حلف بھی اٹھائے لیکن بعد میں طے کیا گیا کہ آزادی کی سالگرہ ہمیشہ 14 اگست کو منائی جائے کیونکہ اقتدار اس دن منتقل ہوا تھا۔



14 اگست کی رات نئی دہلی میں ہندوستان کی دستورساز اسمبلی کا اجلاس ہوا جس کے آغاز میں بندے ماترم کا پہلا مصرعہ ترانے کے طور پر گایا گیا۔

جواہر لال نہرو نے قرارداد پیش کی کہ رات بارہ بجے اسمبلی کے تمام ارکان، ریاستِ ہندوستان کے ساتھ وفاداری کا حلف اُٹھائیں۔ انہوں نے کہا:

“کئی برس قبل ہم نے تقدیر سے وعدۂ ملاقات کا عہد کیا تھا اور اب وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں اس کا پھل ملنے والا ہے، مکمل نہیں بلکہ کافی اور وافر مقدار میں۔ رات کے اس نصف پہر میں جب کہ پوری دنیا سو رہی ہے، بھارت ایک نئی زندگی اور آزادی کی صبح میں سانس لے گا۔”

تائید کرنے والوں میں مسلم لیگی رہنما چودھری خلیق الزماں بھی شامل تھے۔ رات بارہ بجے ریاستِ ہندوستان کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا گیا۔ آخر میں اقبال کے ترانے کے کچھ اشعار پڑھے گئے:

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

اس کے بعد ٹیگور کے ترانے ’’جنا گنا منا‘‘ کا پہلا مصرعہ پڑھا گیا کہ عوام کے ذہنوں پر حکومت کرنے والے، تیری جیت ہو:

جنا گنا منا ادھی نایک جَے ہے!


اقبال نے “جاویدنامہ” میں دکھایا تھا کہ ہندوستان کے آزاد ہونے کے لمحے ایک فرشتے کی نظر ہندوستان پر جمی ہوئی ہے۔ اسی کتاب میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ قرآن کے باطن میں ایسی دنیائیں موجود ہیں جو ابھی تک ظاہر نہیں ہوئی ہیں اور اُنہی میں سے ایک دنیا بتدریج  ظاہر ہو رہی ہے۔ اب ہندوستان کو آزادی مل چکی تھی، پاکستان وجود میں آ چکا تھا (جس میں وہ علاقہ بھی شامل تھا جو اَب بنگلہ دیش ہے)، اور اُس رات شبِ قدر تھی:

بیشک ہم نے اِسے شبِ قدر میں نازل کیا
اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے!
شبِ قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔
اس میں  فرشتے اُترتے ہیں اور روح، اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر اَمر کے لیے۔
سلامتی ہے  یہ طلوعِ سحر تک!


یہ اُس سفر کی منزل تھی جو سر سید کے زمانے میں “تمام انسانوں کی روح” کو تلاش کرنے کی کوشش کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ علامہ اقبال نے گواہی دی تھی کہ وہ ایک حقیقی وجود ہے۔ اگر یہ درست ہے، تو وہ روح کم سے کم اُس رات ضرور برصغیر کے مسلمانوں کے درمیان موجود رہی ہو گی، جس رات آزادی ملی، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ آزادی حاصل ہی اس وجہ سے ہو رہی تھی کہ مسلمان قوم متحد ہو گئی تھی:

آج جانے کی ضد نہ کرو، یونہی پہلو میں بیٹھے رہو!
ہائے مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے،
ایسی باتیں کِیا نہ کرو!

تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں،
جان جاتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم!
تم کو اپنی قسم جانِ جاں، بات اِتنی مِری مان لو!

وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
اِن کو کھو کر کہیں جانِ جاں، عمر بھر نہ ترستے رہو!

کتنا معصوم رنگین ہے یہ سماں،
حُسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جانِ جاں، روک لو آج کی رات کو!



اگلی قسط “آزادی” کی آخری قسط ہو گی۔ جمعہ 19 جُولائی کو ملاحظہ کیجیے۔


“آزادی کی شام” پر ایک تبصرہ

  1. بابائے قوم قائد اعظم نے فرمایا کہ”ھندوستان کی تقسیم ہونا ضروری تھا مین سمجھتا ہون اور کوئی حل نہ تھا اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل کی تاریخ اس کے حق مین اپنا فیصلہ دے گی اور مزید برآمد جون جون ھم آگے بڑھیں گے تو عملی تجربے سے یہ ثابت جوتا جائے گا کہ یہ بند کے آئینی مسائل کا واحد حل تھا “
    قائد کی دور اندیشی بلاشبہ بے مثال ہے کہ اسوقت انہیں اندازہ ہو گیا کہ مسلمانان کی متحدہ ھندوستانُ مین کیا حیثیت ہو گی اور کس طرح نہ صرف انکے حقوق پامال ہونگے بلکہ ان کے جان و مال کی حفاظت کی بھی کوئی گارنٹی نہ ھو گی۔
    خدا کا شکر ہے کہ ھمارے آبائواجداد نے قائد کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان کی طرف ھجرت کی ورنہ خدانخواستہ کہین ھم بھی بھارت مین کسی cow lynching کا شکار ہو رہے ہوتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے