عہدنامۂ پاکستان


1945-46 کے انتخابات میں بے مثال کامیابی کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کے منتخب ہونے والے نمایندوں کا ایک اجلاس دہلی میں 7 اور 8 اپریل 1946 کو ہوا جہاں مسلمانوں کے مطالبات کو حتمی شکل دینے کے لیے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی۔



قرارداد بنگالی رہنما حسین شہید سہروردی نے پیش کی اور برطانوی ہندوستان کے تمام حصوں کے نمایندوں نے اس کی تائید کی۔


قرارداد

جبکہ ہندوستان کے اِس وسیع برِصغیر میں دس کروڑ مسلمان ایک ایسے عقیدے کے پیرو ہیں جو اُن کی زندگی کے ہر شعبے (تعلیمی، سماجی، اقتصادی اور سیاسی) میں نافذ ہے، جس کا ضابطہ محض روحانی تعلیمات اور عقائد، اور رسومات و تقریبات تک محدود نہیں ہے، اور جو ہندو دھرم اور فلسفے کی اُس امتیازی نوعیت سے ٹکراتا ہے جس نے ہزاروں سال سے ذات پات کے ایک منجمد نظام کو پروان چڑھا کر چَھ کروڑ انسانوں کو اَچھوت بنا دیا ہے، جس نے انسان اور انسان کے درمیان غیرفطری دیواریں کھڑی کی ہیں،  اور جس کی وجہ سے مسلمان، عیسائی اور دوسری اقلیتیں سماجی اور اقتصادی طور پر دائمی غلامی کے خطرے سے دوچار ہیں؛

جبکہ ذات پات کا ہندو نظام قومیت، مساوات، جمہوریت اور اُن تمام بلند مقاصد کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی اسلام نمایندگی کرتا ہے؛

 جبکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مختلف تاریخی پس منظر، روایات، ثقافت، اور سماجی اور اقتصادی نظاموں کی وجہ سے ناممکن ہے کہ ایک واحد ہندوستانی قوم ارتقا پا سکے جس کے ارمان اور نصبُ العین مشترک ہوں، اور صدیوں بعد بھی وہ ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف دو قومیں ہیں؛

جبکہ ہندوستان میں مغربی جمہوریت کی طرز کے سیاسی ادارے متعارف کروانے کی برطانوی پالیسی کے نفاذ کے بعد جلد ہی واضح ہو گیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک قوم یا معاشرے کی اکثریت دوسری قوم یا معاشرے کی اکثریت پر اُس کی مرضی کے خلاف حکومت کرے گی، جیسا کہ 1935 کے دستورِ ہند کے تحت ہندو اکثریتی صوبوں میں کانگرس کی حکومت کے ڈھائی سال میں کُھل کر سامنے آ گیا جب  مسلمانوں کو ناگفتہ ہراس اور ظلم کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد وہ دستور میں فراہم کیے ہوئے نام نہاد تحفظات اور گورنروں کو دی ہوئی ہدایات کے بے اثر ہونے کے قائل ہو کر اِس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہوئے کہ اگر ایک متحدہ ہندوستانی وفاق قائم ہوا تو مسلم اکثریت کے صوبوں میں بھی مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر نہ ہو گی، اور اُن کے حقوق اور مفادات مرکز کی مستقل ہندو اکثریت کے ہاتھوں محفوظ نہ رہیں گے؛

جبکہ مسلمانوں کو یقین ہے کہ مسلم ہندوستان کو ہندوؤں کے تسلط سے بچانے اور مسلمانوں کواپنی قدرتی صلاحیتوں کے مطابق خود کو ترقی دینے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ شمال مشرقی حصے میں بنگال اور آسام، اور شمال مغربی حصے میں پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل خودمختار ریاست قائم کی جائے؛

ہندوستان کے مرکزی اور صوبائی مسلم لیگی قانون سازوں کا یہ کنونشن گہرے غور و خوص کے بعد اعلان کرتا ہے کہ مسلم قوم کبھی ایک متحدہ ہندوستان کے لیے آئین قبول نہ کرے گی اور کبھی اس مقصد کے لیے بننے والے واحد دستورساز ادارے میں شریک نہ ہو گی، اور ہندوستان کے عوام کو اقتدار منتقل کرنے کے لیے برطانوی حکومت کا کوئی فارمولا ہندوستان کے مسئلے کو حل کرنے میں مفید نہ ہو گا اگر وہ مندجہ ذیل اصولوں کے مطابق نہ ہوا جو انصاف پر مبنی ہیں اور ملک میں داخلی امن و سکون قائم رکھنے والے ہیں:

کہ بنگال اور آسام پر مبنی شمال مشرقی حصہ اور پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مبنی شمال مغربی حصہ، یعنی پاکستانی حصے، جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، ایک آزاد خومختار ریاست بنایا جائے اور کسی تاخیر کے بغیر پاکستان کے قیام پر عمل درآمد کرنے کا حتمی وعد ہ کیا جائے؛

کہ پاکستان اور ہندوستان کے عوام اپنے اپنے آئین کی تشکیل کے لیے دو علیحدہ دستورساز ادارے قائم کریں؛

کہ پاکستان اور ہندوستان میں اقلیتوں کو آل انڈیا مسلم لیگ  کی 23 مارچ 1940 کو لاہور میں منظور کی ہوئی قرارداد کے مطابق تحفظات فراہم کیے جائیں؛

کہ مرکز میں عبوری حکومت کی تشکیل میں مسلم لیگ کے تعاون اور شمولیت کی بنیادی شرط مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان کی قبولیت اور اس پر بلاتاخیر عمل درآمد ہے؛

مزید برآں یہ کنونشن پرزور اعلان کرتا ہے کہ متحدہ ہندوستان کی بنیاد پر کسی آئین کو نافذ کرنے یا مسلم لیگ کے مطالبے کے برعکس مرکز میں کوئی عبوری بندوبست نافذ کرنے کی کوئی بھی کوشش مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ چھوڑے گی کہ اپنی بقا اور قومی وجود کی خاطر ہر ممکن طریقے سے اس کی مزاحمت کریں۔


قرارداد کی منظوری کے بعد لیاقت علی خاں نے ایک حلف نامہ پڑھ کر سنایا جو پہلے سے سب کو دیا جا چکا تھا اور سب نے اس پر دستخط کیے تھے:



حلف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

’’کہہ دیجیے کہ میری عبادت اور قربانی، اور میرا جینا اور مرنا اللہ کے  لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے‘‘ (قرآن)

میں اپنے اِس پختہ عقیدے کا باقاعدہ اعلان کرتا / کرتی ہوں کہ ہندوستان کے اِس برصغیر میں آباد ملتِ اسلامیہ کا تحفظ اور سلامتی، اور نجات اور تقدیر صرف پاکستان کے حصول پر موقوف ہے، جو دستوری مسئلے کا واحد منصفانہ، عزت دارانہ  اورعادلانہ حل ہے، اور جو اِس عظیم برصغیر کی مختلف قوموں اور ملّتوں کے لیے امن، آزادی اور خوشحالی لائے گا؛

میں پوری ذمہ داری کے ساتھ اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ پاکستان کے عزیز قومی نصبُ العین کےحصول کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک پر عمل درآمد کے لیے اس کی طرف سے جاری ہونے والے تمام احکامات اور ہدایات کی دلی رضامندی اور استقامت کے ساتھ اطاعت کروں گا/گی، اور چونکہ مجھے اپنے مقصد کے حق و انصاف پر مبنی ہونے کا یقین ہے، میں ہر اُس خطرے، امتحان یا قربانی سے گزرنے کا حلف اٹھاتا/اٹھاتی ہوں جس کا مجھ سے تقاضا کیا جائے۔

’’اے ہمارے رب! ہمیں صبر عطا فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کفار کی قوم کے خلاف ہماری  مدد فرما!‘‘ آمین!

یہ حلف مسلم اخبارات کو اِس اپیل کے ساتھ جاری کر دیا گیا کہ ’’آج ہر مسلمان یہ حلف اٹھائے۔‘‘


اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ اب پاکستان مسلمانوں کی اکثریت کی رائے نہیں بلکہ مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ ہے، اور:

“وہ چند مسلمان جو ہمارے ساتھ نہیں ہیں … ان کے وجود سے فرق نہیں پڑتا، لیکن کم سے کم اب وہ خاموش رہیں … میں اِس پلیٹ فارم سے بلاخوفِ تردید کہتا ہوں کہ مسلم ہندوستان ایک ہے اور پاکستان ہمارا مطالبہ ہے۔ اب ہم  یہ حلف اُٹھا چکے ہیں … پانچ سال میں ہماری قوم  کو نئی زندگی مل جانا کامیابی کا ایک معجزہ ہے۔ میں سوچنے لگتا ہوں جیسے یہ ایک خواب ہے۔ کتنی تیزی سے قوم وہی کردار [جو انگریزوں کی غلامی اور ہندوؤں کے اقتصادی تسلط کی وجہ سے کھو گیا تھا]، اپنی اصل شریف صورت میں دوبارہ حاصل کر رہی ہے! ہمارے مرد، ہماری عورتیں، ہمارے بچے – وہ اب مختلف طرح سوچتے، بولتے اور عمل کرتے ہیں۔”


قرارداد اور حلف کا اصل انگریزی متن


“عہدنامۂ پاکستان” پر 4 تبصرے

  1. آج میں اپنے تبصرے میں کچھ سوالات شامل کرنا چاہتا ہوں اور جناب خرم علی شفیق صاحب سے ان کے جوابات درکار ہیں۔
    یہ سوالات محض رہنمائی کے لئے ہیں کسی پر تنقید کرنا مقصود نہیں ہے۔

    ٭تحریکِ پاکستان کے دور میں کیا عوام نے کوئی وضاحت نہیں مانگی تھی کہ پاکستان کیسا ہو گا؟
    ٭٭کسی نے عوام کو نہیں بتایا تھا کہ تقسیم کا نتیجہ اس طرح کے بٹوارے کا ہو سکتا ہے کہ آپ کو گھر بار چھوڑنے پڑیں، جانیں خطروں میں ڈالنی پڑیں؟
    ٭٭٭کیا یہ صحیح ہے کہ قیادت کا ذہن صاف نہیں تھا کہ پاکستان کیسا بنے گا۔؟
    ٭٭٭٭ 1946 میں کیبنٹ مشن مان لینا کیا گو مگو کی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔؟
    ٭٭٭٭٭اکثریت کی زبان کو قومی زبان تسلیم کرنے سے انکار کیا ظاہر کرتا ہے؟
    ٭٭٭٭٭٭ 1929 میں جو جناح صاحب بلوچستان کے لیے صوبائی درجہ مانگتے ہیں، وہی قائدِ اعظم 1948 فروری میں سبی جاتے ہیں اور بلوچستان کے معاملات گورنر جنرل کی تحویل میں لے لیتے ہیں۔ کیوں؟
    ٭٭٭٭٭٭٭ کیا قائد نے خان غفار خان سے ان کے مرکز کے دورے کا وعدہ کیا تھا؟ اگر کیا تھا تو کیوں نہ گئے؟؟

    1. مشہود صاحب، یہ سوالات ختم ہو جائیں گے تو اِس قسم کے اور سوالات آ جائیں گے، وہیں سے جہاں سے یہ آئے ہیں۔ بہتر ہے کہ ہم اپنا وقت اِس قسم کی سرگرمیوں میں صرف کرنے کی بجائے اُس مقصد کو حاصل کرنے میں لگائیں جو ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے یعنی غربت اور خوف سے نجات۔ اِس حلف نامے میں آل انڈیا مسلم لیگ کی جن ہدایات پر عمل کرنے کا عہد کیا گیا ہے، میرے خیال میں اُن ہدایات پر عمل کر کے یہ مقصد بہت جلد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

      مجھے گمان ہے کہ جو لوگ اِس قسم کے سوالات اُٹھاتے ہیں اُنہیں یقین نہیں ہے کہ یہ مقصد اِس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ وہ اِتنے سنگدل تو نہیں ہو سکتے کہ کروڑوں غریبوں کی تکالیف دُور کرنے کے معاملے کو کھٹائی میں ڈال کر دوسری بحثوں میں پڑ جائیں۔

      دوسری بات یہ ہے کہ ذرا اُس حلف نامے پر غور کیجیے جو برصغیر کی مسلمان قوم نے اُس موقع پر اُٹھایا تھا اور جو یہاں پیش کیا گیا ہے۔ پھر ٹھنڈے دل سے سوچیے کہ جس کسی نے وہ حلف اُٹھایا ہو، کیا اُسے کے ذہن میں یہ سوالات پیدا ہو سکتے ہیں اور کیا اُسے اِن سوالات کے جوابات حاصل کرنے سے دلچسپی ہو سکتی ہے؟

      بہرحال، چونکہ آپ نے یہ سوالات اٹھائے ہیں، اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اِن کے جوابات میرے پاس ہیں لیکن میں اِس صفحے پر پیش نہیں کر سکتا۔ ورنہ پھر قارئین کو جوابُ الجواب کا حق ہو گا اور یوں بات اصل موضوع سے بہت دُور نکل جائے گی۔ جبکہ میں چاہتا ہوں کہ اِس صفحے کی آبرو برقرار رہے۔ اگر میں کسی اور ذریعے سے آپ کے سوالات کے جواب دے سکوں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے