مسلمانوں کا حلف نامہ


آزادی” پڑھنے والے اُس حلف سے اچھی طرح واقف ہیں جو اپریل 1946 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تمام منتخب نمایندوں نے دہلی میں اٹھایا تھا۔ آج اس حلف کے بارے میں اُس زمانے کے ایک اُردو اخبار کا اداریہ پیش کیا جا رہا ہے جو یقیناً آپ کی دلچسپی اور معلومات کا باعث ہو گا۔


وہ حلف نامہ جب کچھ عرصہ پہلے اِس ویب سائٹ پر پوسٹ کیا گیا تو ایک تبصرے میں کچھ سوال پوچھے گئے جن میں سے تین یہ تھے:

“تحریکِ پاکستان کے دور میں کیا عوام نے کوئی وضاحت نہیں مانگی تھی کہ پاکستان کیسا ہو گا؟ کسی نے عوام کو نہیں بتایا تھا کہ تقسیم کا نتیجہ اس طرح کے بٹوارے کا ہو سکتا ہے کہ آپ کو گھر بار چھوڑنے پڑیں، جانیں خطروں میں ڈالنی پڑیں؟ کیا یہ صحیح ہے کہ قیادت کا ذہن صاف نہیں تھا کہ پاکستان کیسا بنے گا؟”

یہ سوالات محترم دوست محمد مشہود قاسمی نے پوچھے تھے کیونکہ آج کل بہت سے لوگ یہ سوالات اٹھاتے ہیں اور شاید آپ نے بھی سنے ہوں گے۔

اِن سوالوں کے جواب محض ایک کمنٹ میں نہیں دئیے جا سکتے تھے اس لیے میں نے مشہود صاحب سے درخواست کی کہ وہ روزنامہ “انقلاب” کا وہ اداریہ حاصل کریں جو اُس حلف کے زمانے میں شائع ہوا تھا۔ “انقلاب”، غلام رسول مہر اپنے دوست عبدالمجید سالک کے ساتھ مل کر نکالتے تھے۔ مہر صاحب کے لائق صاحبزادے امجد سلیم علوی کی مہربانی سے وہ اداریہ حاصل کیا گیا اور مشہود صاحب نے اسے دوبارہ کمپوز کیا۔ اب اصل کا عکس مع متن کے پیش کیا جا رہا ہے۔

“انقلاب” کے ادارئیے عموماً مہر صاحب ہی لکھتے تھے۔ اس اداریے کو بھی انہی کی تحریر سمجھا گیا ہے۔

دیکھا جا سکتا ہے کہ اِس کی روشنی میں اُن تینوں سوالوں کے جواب سامنے آ جاتے ہیں جو اوپر درج کیے گئے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اداریہ پڑھنے کے بعد میری طرح آپ بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ اگر ہم اپنی تاریخ کے اِن بُھولے ہوئے ابواب سے واقف ہوں تو بہت سے ایسے سوالات پیدا ہی نہ ہوں جو فی الوقت ہماری انرجی برباد کر رہے ہیں۔


13 اپریل 1946



10 جمادی الاول 1365

مسلمانوں کا حلف نامہ

قومی استقلال کی حفاظت کا گرانبہا فرض

مختلف اسمبلیوں کے مسلم لیگی ممبروں کا جو اجتماع دہلی میں ہوا تھا ، اس میں حاضرین نے ایک حلف بھی اٹھایاجس کے الفاظ یہ ہیں:

“میں باضابطہ طریق پر اپنے اس پختہ عقیدے کا اعلان کرتا ہوں کہ ہندوستان کے اس چھوٹے برِ اعظم میں ملتِ اسلامیہ کے جو عناصر آباد ہیں ان کی تقدیر، نجات، حفاظت اور سلامتی صرف پاکستان کے حصول پر موقوف ہے۔ یہی اس ملک کے دستوری مسائل کا منصفانہ، عادلانہ اور عزت مندانہ حل ہے اور اسی کے ذریعہ سے یہاں کی مختلف قوموں اور فرقوں کو اقبال مندی، آزادی اور امن کی دولت حاصل ہو گی-

“میں پوری ذمہ داری کے ساتھ اقرار کرتا ہوں کہ پاکستان کے عزیز قومی نصب العین کے لئے اگر آل انڈیا مسلم لیگ نے کوئی تحریک جاری کی تو میں لیگ کے تمام احکام و ہدایات پر دلی رضامندی اور استقامت کے ساتھ عمل کروں گا۔ میرا عقیدہ ہے کہ جس مقصد کو لے کر کھڑا ہوا ہوں وہ حق و انصاف کے عین مطابق ہے، لہٰذا میں حلف اٹھاتا ہوں کہ خطرے اور امتحان کی جو منزل سامنے آئے گی اسے طے کرنے کے لئے آمادہ ہوں گا اور جس قربانی کا مطالبہ کیا جائے گا اس میں تامل نہیں کرونگا۔”

ہم نے یہ حلف نامہ اس غرض سے لفظاً لفظاً نقل کر دیا ہے کہ اسے محض اسمبلیوں کے ممبران تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ جو مسلمان پاکستان کی اسکیم کو ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی نجات کا مدار تسلیم کرتا ہے اور اس کے لئے اپنے دل میں سچی تڑپ رکھتا ہے اسے یہ حلف اٹھانے میں تامل نہیں ہونا چاہئے۔

باتوں، نعروں اور تقریروں کا دور ختم ہوگیا، اب وہ دور سامنے ہے جس میں ہر مسلمان کی ہمت و عزم اور داعیہ قربانی کا امتحان ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے فضل سے یہ کٹھن منزل ٹل جائے اور پاکستان کی بنأ پر با عزت سمجھوتے کی کوئی اچھی شکل نکل آئے، لیکن دوسری صورت بھی پیش آسکتی ہے اور اس کے لئے ہر مسلمان کو بہ طبیبِ خاطر تیار ہو جانا چاہئے۔

بلکہ ہم تو اپنے ان بھائیوں سے بھی آج مخلصانہ تعاون کے آرزومند ہیں جو پبلک جلسوں میں بڑے فخرو طمطراق کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ لیگ “ٹوڈیوں” کی جماعت ہے اور وہ قربانیوں کے میدان میں کبھی قدم نہیں رکھے گی- آج لیگ ہر اس اقدام کے لئے تیار بیٹھی ہے جو قوم کے عزیز ترین نصب العین کی خاطر ضروری ہو خواہ اس میں کتنے ہی خطرات کا اندیشہ ہو۔

اور یہ خطرات کس غرض سے برداشت کئے جا رہے ہیں؟ 

اس غرض سے کہ ہندوستان میں مسلمان آزادی، استقلال اور عزت مندی کی زندگی گزارنے کے قابل ہوجائیں۔ جن بھائیوں کو اپنے ایثار پرور کارناموں پر فخر رہا ہے اور وہ کانگریس کے احکام پر یہ سمجھ کر لبیک کہتے رہے ہیں کہ کانگریس انگریزی اقتدار سے نجات کی خواہاں تھی، کیا وہ مسلمانوں کا ساتھ دینے میں تامل کریں گے در آنحالیکہ اس اقدام کا مدعا محض یہ ہے کہ ملتِ اسلامیہ کو انگریزی اقتدار اور ہندو اقتدار دونوں سے نجات مل جائے؟

واضح رہے کہ اس نہایت اہم حلف نامہ کو ان عام نعروں کا رنگ نہیں دینا چاہئے جو صرف کام و دہن کی مشق تک محدود تھے اور ان کے ساتھ  ذمہ داریاں وابستہ نہیں تھیں۔

اس حلف نامہ کے ساتھ قدم قدم پر بڑی بڑی قربانیاں وابستہ ہیں اور ہر شخص کو یہ حلف اٹھانے سے پیشتر ٹھنڈے دل سے اپنی ہمت و استظاعت کا جائزہ لے لینا چاہئے۔ جن لوگوں کو اپنے قدموں کی مضبوطی اور اپنے دلوں کی استقامت پر پورا اعتماد ہو صرف انہی کو آگے بڑھنا چاہئے۔

ہم سب کو اچھی  طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ یہ منزل بڑی کٹھن ہے اور ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ مسٹر جناح بے تکلفی کے ساتھ اس میں قدم بڑھانے کا حکم نہیں دے دیں گے۔ لیکن وقت اور حالات کی نزاکت کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے۔ اگر خدانخواستہ انتہائی کوششوں  کے باوجود آخری فیصلہ حسبِ خواہش نہ ہو سکا اور یہاں کوئی ایسا دستور نافذ کرنے کی کوشش کی گئی جو مسلمانوں کے استقلال کے منافی ہوا تو اس کے سوا چارۂ کار کیا رہ جائے گا کہ عزم و ہمت کے ساتھ اس کی مزاحمت کی جائے۔

ہندوستان کے مسلمانوں کی قومی زندگی میں یہ آخری فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ انہوں نے صدیوں تک اس سر زمین کے چپے چپے پر حکومت کی۔ وہ چند ہزار کی تعداد میں آئے تھے، آج دس کروڑ ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کی تقدیر کو ہندوؤں کی تابعیت میں دے دینے کے لئے کوئی وجۂ جواز پیش نہیں کی جا سکتی۔

ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے بلکہ سب کے ساتھ امن و خوش دلی کے تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ سب کے جائز حقوق کی حفاظت کے قائل ہیں۔ سب کے ساتھ انصاف کے خواہاں ہیں لیکن یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ ہمارا استقلال معرضِ اختلال میں پڑجائے۔

ہمیں مخالفت و مزاحمت پسند نہیں ہے۔ لیکن اگر دوسرے ہمارے استقلال سے تعرض کے خواہاں ہوں تو مجبوری کی حالت میں ہم اس کی مزاحمت کریں گے، اور اس کے لئے کسی قربانی میں بھی دریغ نہیں ہوگا اور نہ ہی ہونا چاہئے۔  


کتاب “آزادی” 26 جولائی کو ٹاپ لائن پبلشرز نے محدود تعداد میں شائع کر دی ہے۔ قیمت پانچ سو روپے ہے جس میں اندرونِ پاکستان محصول ڈاک شامل ہے۔ صفحات 176، اور کتاب مجلد ہے۔ یہ دکانوں پر نہیں رکھوائی جائے گی اور صرف براہِ راست فروخت کی جائے گی۔ اگر آپ خریدنا چاہیں تو ایمیل پر رابطہ کیجیے:
khurramsdesk@gmail.com


“مسلمانوں کا حلف نامہ” پر ایک تبصرہ

  1. جناب خرم علی شفیق صاحب ! میں آپ کا انتہائی شکر گزار ہوں کہ آپ نے ان سوالات کا جواب روزنامہ انقلاب کے اس اداریہ میں مہیا کیا جو میں نے آپ کے سامنے رکھے (اگرچہ یہ میرے اپنے ذہن میں اٹھنے والے سوالات نہیں تھے بلکہ کچھ دوستوں کی طرف سے سوشل میڈیا پہ اٹھائی جانے والی تنقید کو میں نے سوالات کی شکل میں پیش کیا تھا)۔

    اس عہد نامہ کے مندرجات پہ غور کرنے کی ضرورت کو بڑی حد تک اس اداریہ نے پورا کردیا ہے۔ اب اگر کوئی اس عہد نامہ سے ہی اختلاف کرے تو اسے صرف یہ یاد دلایا جاسکتا ہے کہ یہ امت کے منتخب نمایندوں کا اجتماع تھا اور ہر ایسے اجتماع کے فیصلے تقدیس کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ حضورِ پاکﷺ کی حدیث ہے کہ ” میری امت کا اجتماع کبھی گمراہی پر نہیں ہوگا ”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے