قائداعظم کے کچھ خاص اقوال


1936 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا انتخابی منشور جاری کرنے سے لے کر 1948 میں وفات پانے تک قائداعظم نے اپنے ہر عام خطاب میں یہی کہا کہ سب سے پہلے غربت دُور کرنے کے لیے عملی اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے بعض اہم ترین مواقع سے اقتباسات مندرجہ ذیل ہیں۔


 مَیں ہر صوبے، ہر ضلع، ہر تحصیل، ہر شہر  میں ہندوستان کے مسلمانوں سے کہتا ہوں، آپ کا اولین فرض عوام کی فلاح کا ایک تعمیری اور رفاہی لائحۂ عمل بنانا اور مسلمانوں کی معاشرتی، معاشی اور سیاسی بہتری کے لیے طریقے اور ذرائع  تلاش کرنا ہے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے پچیسویں اجلاس کا خطبۂ صدارت، لکھنؤ، اکتوبر 1937


ہمیں، موجودہ حالات میں، اپنے لوگوں کو منظم کرنا ہے، مسلم عوام کو ایک بہتر دنیا کے لیے  اور اُن کی حالت کو فوری طور پر بہتر بنانے کے لیے تقویت دینی ہے، اور ہمیں تعمیری اور فلاحی نوعیت کے منصوبے بنانے ہیں جو اُنہیں اُس غربت اور افلاس سے فوری طور پر نجات دلائیں جس  کے ہاتھوں وہ ہندوستان کے کسی اور حصے سے زیادہ  تکلیف اُٹھا رہے ہیں۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے خصوصی اجلاس  کا خطبۂ صدارت، کلکتہ، اپریل 1938


میں کہہ سکتا ہوں کہ اب مسلم لیگ کسی کی رفاقت کے لیے تیار نہیں ہے لیکن اگر مسلمانوں کے مفاد کا معاملہ ہو تو وہ ابلیس کی بھی حلیف بن جائے گی۔

 آل انڈیا مسلم لیگ کے چھبیسویں اجلاس کا خطبۂ صدارت، پٹنہ، دسمبر 1938


میراخیال ہے کہ عوام پوری طرح بیدار ہو چکے  ہیں۔ انہیں صرف آپ سے رہنمائی اور قیادت کی ضرورت ہے۔ اسلام کے خادم بن کر آگے آئیے، عوام کو اقتصادی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی طور پر منظم کیجیے۔

 آل انڈیا مسلم لیگ کے ستائیسویں اجلاس  کا خطبۂ صدارت ، لاہور،مارچ 1940


اب اِس کے بعد کیا؟ … مسلم ہند کی قومی زندگی کے شعبوں کی تعمیر کیجیے۔ یہ شعبے چہارگانہ ہیں [اقتصادی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی ] اور تعمیر کے چار ستونوں کا کام دیتے  ہیں۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے اٹھائیسویں اجلاس  کا خطبۂ صدارت، مدراس اپریل 1941


میں آپ میں سے ہر ایک سے اپیل کرتا ہوں کہ مہربانی کر  کے میری اُس تقریر کو بار بار پڑھیے [جو گزشتہ برس مدراس کے اجلاس کے خطبۂ صدارت کے طور پر پیش کی گئی]، اور اُس کا مطالعہ کیجیے – نہ صرف مطالعہ کیجیے بلکہ میں آپ میں سے ہر ایک سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم نے جو پروگرام اور پالیسی وضع کی ہے، آپ میں سے ہر ایک اُس کے لیے کسی  نہ کسی رُخ میں کچھ نہ کچھ آغاز کر دے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے انتیسویں اجلاس  کا خطبۂ صدارت، الٰہ آباد، اپریل 1942


یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو ایک تنبیہ کرنا چاہوں گا جو ہمیں نقصان پہنچا کر ایک ایسے نظام کی بدولت پنپتے رہے ہیں جو اِتنا  بے رحم ہے، جوخبیث ہے، اور جو اُنہیں اتنا خودغرض بناتا ہے کہ اُنہیں کچھ سمجھانا مشکل ہے۔ عوام کا استحصال اُن کے لہو میں رچ بس گیا ہے۔ وہ اسلام کا پیغام بھول گئے ہیں … لاکھوں کی تعداد میں ہمارے لوگ ہیں جنہیں مشکل سے دن میں ایک وقت کا کھانا ملتا ہے۔ کیا یہ تہذیب ہے؟ کیا یہ پاکستان کا مقصد ہے؟ کیا آپ اپنے تصوّر میں لا سکتے ہیں کہ لاکھوں لوگوں کا استحصال ہوتا رہا ہے اور دن میں ایک وقت  کا کھانا نہیں ملتا! اگر پاکستان کا مطلب یہی ہے تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہیے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے تیسویں اجلاس  کا خطبۂ صدارت ، دہلی، ۲۴ ؍ اپریل 1943


سب سے پہلے آپ کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ہمارے عوام کی اقتصادی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی بہتری کے لیے ایک تعمیری پروگرام شروع کردینا چاہیے۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے اکتیسویں  اجلاس  کا خطبۂ صدارت ، کراچی، 24 دسمبر 1943


ہمیں پوری طرح اور یکسوئی کے ساتھ اپنی توجہ لوگوں کی، اور خاص طور پر عوام اور غریبوں کی، بہبود پر دینی چاہیے۔

پاکستان کی دستورساز اسمبلی ، کراچی، 11 اگست 1947


 ایک نئی ریاست کے قیام نے پاکستان کے شہریوں کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ دنیا کو دکھائیں کہ کس طرح ایک قوم، جو مختلف عناصر پر مشتمل ہو، امن اور محبت کے ساتھ رہ سکتی ہے اور ذات یا مذہب کی تفریق کے بغیر اپنے تمام شہریوں کی بہتری کے لیے کام کر سکتی ہے۔

قوم سے خطاب، 15اگست 1947


 ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ صرف ہر طرح کی محرومی اور خوف ہی کو ختم نہ کیا جائے بلکہ آزادی، اخوت اور مساوات بھی حاصل کی جائے جس کا حکم ہمیں اسلام نے دیا ہے۔

کراچی میونسپل کارپوریشن کے سپاسنامے کا جواب، 25 اگست 1947


  اپنے لیے ایک ریاست قائم کرنا محض مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا اور مقصد نہ تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ ہماری ایک ایسی ریاست ہو جہاں … اسلام کے  سماجی انصاف کے اصول عام ہو سکیں۔

خالقدینا ہال کراچی میں افسران سے خطاب، 11 اکتوبر 1947


ریاست صرف زندگی کے لیے نہیں بہتر زندگی کے لیے وجود رکھتی ہے۔

عیدُالاضحیٰ کے موقع پر قوم کے نام پیغام، 24 اکتوبر 1947


اب آپ کو اپنے وطن کی زمین پر اسلامی جمہوریت، اسلامی معاشرتی انصاف اور انسان کی برابری کی حفاظت کرنی ہے۔

ملیر میں فوجی رجمنٹوں سے خطاب، 21 فروری 1948


آپ میرے ہی جذبات اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات بیان کر رہے ہیں جب آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کو سماجی انصاف کی مضبوط بنیادوں اور اسلامی سوشلزم پر– کسی اور ’’اِزم‘‘ پر نہیں – قائم ہونا چاہیے، جو اِنسان کی برابری اور اُخوّت پر زور دیتا ہے … ہم نے اِسی غرض سے پاکستان کا مطالبہ کیا، اس کے لیے جدوجہد کی اور اسے حاصل کیا …

چٹاگانگ، 26مارچ 1948


مغرب کا اقتصادی نظام … انسان اور انسان کے درمیان انصاف قائم کرنے میں اور بین الاقوامی  طور پر بھی چپقلش دُور کرنے میں ناکام رہا ہے … ہمارا ایک خوش اور مطمئن قوم بنانے کا مقصد مغرب کے اقتصادی نظریے اور عمل کی پیروی کر کے پورا نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی تقدیر اپنے طور پر بنانی چاہیے اور دنیا کے سامنے انسان کی برابری اور سماجی انصاف کے سچے اسلامی تصوّر پر مبنی ایک اقتصادی نظام پیش کرنا چاہیے۔

اسٹیٹ بینک کا افتتاح، کراچی، یکم جولائی 1948


“قائداعظم کے کچھ خاص اقوال” پر ایک تبصرہ

  1. قائدِ اعظم کے یہ فراموش شدہ اقوال نشانِ راہ بھی ہیں اور نشانِ منزل بھی۔ کاش آج کوئی سیاسی جماعت ان اقوال کو اپنے منشور کا حصہ بنا کر ان کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لے اور فتح کی صورت میں ان اقوال سے رہنمائی لے کر عوام کی اقتصادی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی بہتری کے لیے ایک تعمیری پروگرام شروع کر سکے جو ہمارے مذہب کی تعلیمات بھی ہیں اور بانیانِ پاکستان کا فلسفہِ آزادی بھی۔

    دل میں ایسی آ گ لگا دے
    ہم کندن بن جاییں
    سدا تجھے جو دے ھریالی
    وہ ساون بن جاییں
    اس پہ جان نثار
    تجھ سے اتنا پیار
    اللہ بات بناے رکھے
    تو ہم سب کا مان
    سورج کرے سلام چندا کرے سلام
    ( فیاض ہاشمی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے