آزادی



وہ حقائق جو سب کو معلوم ہونے چاہئیں
لیکن کسی کو معلوم نہیں ہیں!

1858 سے 1947 وہ عرصہ ہے جب برصغیر جنوبی ایشیا پر تاجِ برطانیہ کی حکومت تھی۔ یہ کتاب اُس دَور کی تاریخ کو خِطّے کی مسلمان قوم کے نقطۂ نگاہ سے پیش کرتی ہے – وہ قوم جس نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے اکٹھے ہو کر محمد علی جناح کو “قائداعظم” تسلیم کیا اور نہ صرف اپنے لیے ایک خودمختار ریاست حاصل کی بلکہ برصغیر کو غیرملکی تسلط سے آزادی بھی دلوائی۔


کتاب “آزادی” 26 جولائی کو محدود تعداد میں شائع ہو گئی ہے۔ قیمت پانچ سو روپے ہے جس میں اندرونِ پاکستان محصول ڈاک شامل ہے۔ صفحات 176، اور کتاب مجلد ہے۔ یہ دکانوں پر نہیں رکھوائی جائے گی اور صرف براہِ راست فروخت کی جائے گی۔ اگر آپ خریدنا چاہیں تو ایمیل پر رابطہ کیجیے:
khurramsdesk@gmail.com


کاغذی صورت میں شائع ہونے کے علاوہ یہ کتاب قسط وار بلاگ پر بھی شائع کی گئی۔ اقساط کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ 


تمہید

1887 سے 1906

1907 سے 1926

1927 سے 1946

1946 اور 1947

1947 سے آگے



کتاب “آزادی” 26 جولائی کو محدود تعداد میں شائع ہو گئی ہے۔ قیمت پانچ سو روپے ہے جس میں اندرونِ پاکستان محصول ڈاک شامل ہے۔ صفحات 176، اور کتاب مجلد ہے۔ یہ دکانوں پر نہیں رکھوائی جائے گی اور صرف براہِ راست فروخت کی جائے گی۔ اگر آپ خریدنا چاہیں تو ایمیل پر رابطہ کیجیے:
khurramsdesk@gmail.com


“آزادی” پر 3 تبصرے

  1. ایک ایسا معاشرہ جہاں آزادی کی تاریخ کا گلہ گھونٹ کر اسے بڑے اہتمام کے ساتھ دفن کردیا گیا ہو اور پھر اس کے سالانہ عرس کے موقع پر یا درمیان میں آنے والے کچھ مخصوص ایام اور تہواروں پر کچھ تقریبات منعقد کرکے جھوٹ کی قوالیاں الاپی جاتی ہوں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بانیانِ قوم کی تعلیم، نظریات اور اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر اور آئین و قانون کو روند کر حکمران بن جانے والوں کے کاسہ لیس اور درباری دن رات تارٰیخ کا حلیہ بگاڑنے میں مصروف ہوں اور غاصب حکمرانوں کے اشارہِ ابرو پر نصاب کی کتابوں میں تحریف شدہ مواد “مطالعہِ پاکستان” کے نام پر شامل کردیا جاتا ہو وہاں پر خرم علی شفیق صاحب قومی تاریخ کے مزار کی تہوں سے حقائق برآمد کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی یہ کتاب “آزادی” بھی قوم کیلئے ایک تحفہ ہے جس طرح بانیانِ پاکستان کی طرف سے آزادی کی شکل میں قوم کو تحفہ دیا گیا تھا۔

    1. محمد مشہود قاسمی آپ نے بہترین اور نپے تلے الفاظ میں حقائق کا احاطہ اور سر خرم علی شفیق کی مخلص کاوشوں کو خراج پیش کیا ے۔ میں آپ سےمکمل طورپرمتفق ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے