تمام انسانوں کی رُوح


یہ “آزادی” کی دوسری قسط ہے، اور 1858 سے 1886 تک کے واقعات پر محیط ہے۔


پچھلی قسط میں ہم نے یہ طے کیا ہے کہ مغربی تعلیم سے برصغیر کے رہنے والوں کو جو بھی فائدے ہوئے اُن سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن برصغیر کے لیے اس تعلیم کا سب سے مضر پہلو یہ تھا کہ اس نے ہندوستانی تاریخ کے مسلم دَورِ حکومت کو بہت منفی انداز میں پیش کیا، جس کے نتائج تعلیم حاصل کرنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں میں علیحدہ علیحدہ طور پر ظاہر ہوئے۔

تعلیم یافتہ ہندوؤں میں نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں ایسی ہر چیز سے نفرت ہو گئی جو کسی بھی لحاظ سے مسلمانوں کے دورِ حکومت کی یاد دلائے، خواہ یہ مسلمانوں کی تعمیر کی ہوئی عمارتیں ہوں، اُن کی ثقافت ہو، اُردو زبان ہو یا مسلم اکثریتی صوبوں میں مسلم اکثریت پر مبنی صوبائی حکومتوں کا قیام ہو۔

تعلیم یافتہ مسلمانوں میں یہ نتیجہ نکلا کہ ان کی نظر میں اپنی قوم حقیر ہو گئی۔ یہ رویہ آج تک پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان میں دیکھا جا سکتا ہے۔ چنانچہ آج کے پاکستانی معاشرے میں ہمیں جو بھی خرابی دکھائی دے، ہمیں سب سے پہلے اُس کا تعلق اِسی بات سے جوڑنا ہو گا کہ یہ خرابی اس لیے ہے کہ ہم اپنی قوم کو حقیر سمجھتے ہیں۔

چونکہ آپ بھی اور میں بھی انہی تعلیم یافتہ پاکستانیوں میں شمار ہوتے ہیں اس لیے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ میں سب سے پہلے یہی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی قوم کی عزت کرنا سیکھیں۔ آج کی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ قوم کی عزت کیسے کی جاتی ہے۔


اِس دفعہ بھی ہم ایک چھوٹی سی سرگرمی سے آغاز کریں گے، جس کی وضاحت پوسٹ کے آخر میں کی جائے گی (اُمید ہے کہ آپ اسکرول ڈاؤن نہیں کریں گے بلکہ صبر کے ساتھ پوری قسط پڑھنے کے بعد وہاں پہنچیں گے)۔

شاعر فیاض ہاشمی کے ایک مقبول نغمے کی وجہ سے 1944 میں نوجوان گلوکار طلعت محمود پہلی دفعہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچے اور ہر خاص و عام کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ نغمہ ہے، “تصویر تیری دل مرا بہلا نہ سکے گی۔” آپ اسے سنتے ہوئے فیصلہ کیجیے کہ شاعر کے لیے محبوب کی تصویر کیوں کافی نہیں ہے۔



1858 میں لندن میں برطانوی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان، دارالعوام (ہاؤس آف کامنز)، میں بحث ہوئی کہ ہندوستان جیسے بڑے علاقے اور وہاں کی آبادی کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھوں میں چھوڑنا جمہوریت کے منافی ہے اس لیے یہ ملک براہِ راست تاجِ برطانیہ کے ماتحت ہونا چاہیے۔ لبرل سیاستداں جان برائٹ نے کہا:

“انگلستان کب تک ہندوستان پر حکومت کرے گا؟ کوئی اِس سوال کا جواب نہیں دیتا اور کوئی اس کا جواب دے بھی نہیں سکتا۔ پچاس یا سو یا پانچ سو سال سہی، کیا کوئی شخص جس میں ذرا سی بھی کامن سینس ہو وہ یقین کر سکتا ہے کہ اتنا بڑا ملک، اپنی بیس مختلف قوموں اور اپنی بیس زبانوں کے ساتھ کبھی بھی ایک متحدہ اور مستقل سلطنت کی حدود میں اُستوار کیا جا سکتا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ یہ بالکل ناممکن ہے۔ اگر ہم نے کبھی یہ کوشش کی تو اس میں ناکام رہیں گے۔ اور ہم پابند ہیں کہ اِسی نقطے سے مستقبل پر نگاہ ڈالیں۔”


برائٹ کی تجویز تھی کہ ہندوستان کو کسی ایک حکومت کے ماتحت کرنے کے بجائے چار پانچ ممالک میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے اپنے مزاج کے مطابق ترقی کر سکیں۔

اکثریت نے اتفاق نہ کیا اور سوائے اُن ریاستوں کے جو کسی معاہدے کے تحت دیسی حکمرانوں کے پاس رہنے دی گئی تھیں، باقی ہندوستان کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے کی طرح ایک مرکزی حکومت کے ماتحت ہی رکھا اگرچہ اب وہ حکومت کمپنی کی بجائے برطانوی پارلیمنٹ اور تاجِ برطانیہ کو براہِ راست جوابدہ ہو گئی۔



البتہ جان برائٹ کی ایک اور تجویز ضرور منظور ہوئی اور وہ یہ تھی کہ ملکۂ انگلستان وکٹوریہ کی طرف سے ہندوستانیوں کے حقوق اور مراعات کا واضح اعلان کیا جائے۔

یکم نومبر 1858 کو وائسرائے نے الٰہ آباد میں دربار لگایا اور ملکہ کی طرف سے ایک اعلان کیا جس میں برطانوی حکومت کی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا گیا:

’’کوئی شخص اپنی ذات، نسل، مذہب یا رنگ کی وجہ سے سرکاری عہدوں سے محروم نہ کیا جائے گا بشرطیکہ وہ اپنی تعلیمی قابلیت اور دیانت کے لحاظ سے اس کی اہلیت رکھتا ہو۔ حکومت کسی کے عقائد میں بھی دخل اندازی نہ کرے گی۔‘‘

برصغیر میں انگریزوں سے نفرت کرنے والے بھی کم نہ تھے لیکن یہاں کے اہم ترین اور مقبول ترین رہنماؤں نے اس اعلان کو انسانی تاریخ کا اہم سنگِ میل قرار دیا کیونکہ ایک حکمراں قوم نے محکوم قوم کو برابری کی سطح پر لانے کا مقصد اپنایا تھا۔



1860 میں ہندوستان کے بعض حصوں میں ایک خوفناک قحط پڑا۔

سید احمد خاں، جو بعد میں سر سیّد کے خطاب سے مشہور ہوئے، اُن دنوں مرادآباد میں افسر تھے۔ اُنہوں نے سرکاری محتاج خانے کا بندوبست کرنا اِس شرط پر قبول کیا کہ جو بچے قحط کی وجہ سے یتیم ہو کر آئیں اُنہیں عیسائی مشنریوں کے سپرد نہ کیا جائے بلکہ مسلمان بچے مسلمانوں اور ہندو بچے ہندوؤں کے سپرد کیے جائیں (اُس زمانے میں یتیم ہندوستانی بچوں کو عیسائی تبلیغی اداروں کے سپرد کر دیا جاتا جہاں ان کی پرورش اور تعلیم و تربیت کا اچھا انتظام تھا لیکن انہیں عیسائی بنا دیا جاتا تھا)۔

سیّد نے خود بھی کچھ مسلمان یتیموں کو گود لیا۔ ان کی بیگم ان یتیموں کو اپنے بچوں کی طرح پالنے لگیں۔ مشنریوں نے انگریز کمشنر سے کہا کہ مسلمان اور ہندو سرپرست بچوں کو لونڈی غلام بنا لیں گے جبکہ مشنری اداروں میں بچوں کا مستقبل محفوظ ہو گا۔ کمشنر نے ایک کمیٹی بنائی لیکن اس کمیٹی کے ہندوستانی ممبروں میں سے سیّد اور ایک دو کے سوا باقی سب نے انگریزوں کے رعب میں آ کر مشنریوں کی تائید کر دی۔

سیّد کے دل پر جو قیامت گزری اُس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اِس سے پہلے کہ کوئی اُن یتیم بچوں کو واپس لینے آئے جنہیں سیّد اور اُن کی بیگم نے گود لیا تھا، سیّد نے خود ہی انہیں واپس بھجوا دیا۔ بچے جانا نہیں چاہتے تھے اور بری طرح رو رہے تھے۔ حالی نے لکھا ہے:

“سر سیّد کہتے تھے کہ اُس وقت میرا مصمم ارادہ ہو گیا تھا کہ جب کبھی موقع ملے تمام ہندو مسلمانوں سے چندہ کر کے صدرمقام میں ایک بہت بڑا یتیم خانہ قائم کیا جائے جہاں ہندوستان کے لاوارث بچوں کی پرورش ہو اور اُن کو تعلیم دی جائے۔ لیکن آخر کو یقین ہو گیا کہ جب تک ہندوستان میں تعلیم عام نہ ہو گی اِن خرابیوں کا کُلی انسداد کسی طرح نہیں ہو سکتا۔”

چنانچہ حالی کے لحاظ سے سیّد کی تمام آیندہ کوششوں کا محرک یہی خیال تھا کہ ’’ایک بہت بڑا یتیم خانہ قائم کیا جائے جہاں ہندوستان کے لاوارث بچوں کی پرورش ہو اور اُن کو تعلیم دی جائے۔‘‘


میں نے ایک اور پوسٹ، “سیمرغ: علامہ اقبال کے لیکچرز کا تعارف” میں وضاحت کی ہے کہ یہ خیال اُس زمانے سے آج تک ’’تجربے کے ساتھ ساتھ‘‘ بڑھ رہا ہے۔ اِس سیریز کی تمام قسطوں میں بھی آپ یہی دیکھیں گے۔


سیّد کی اپنی زندگی میں اِس کا شاید سب سے بھرپور اظہار حالی نے 1879 میں “مسدس مدوجزرِ اسلام” میں کیا، جہاں اِس خیال کا براہِ راست تعلق رسولِ اکرمؐ کی شخصیت کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے:

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ



دنیا سے غربت کو دُور کرنے کا خیال اُس زمانے میں دنیا کے اور بڑے لوگوں کے ذہنوں میں بھی تھا جن میں سے رُوسی ادیب لیو ٹالسٹائی، انگریز ناول نگار چارلس ڈکنز اور جرمن مفکر کارل مارکس کے ناموں سے اکثر لوگ واقف ہیں (نیچے والی تصویر میں سر سید کے بعد یہ تینوں بالترتیب دائیں سے بائیں دکھائی دے رہے ہیں)۔



مقصد کے اعتبار سے اُن میں اور سیّد میں گہری مماثلت ہو سکتی ہے لیکن طریقِ کار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اُن سب نے کوئی نہ کوئی نظامِ فکر تخلیق کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سیّد نے اپنی کوششوں کی بنیاد محبت کے صوفیانہ تصوّر پر قائم کی، جیسا کہ اب ہم دیکھیں گے۔


بنگال میں نواب عبداللطیف نے علمی ترقی کے لیے سوسائٹی قائم کی تھی۔

اکتوبر 1863 میں وہاں مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے سیّد نے کہا کہ صوفیوں کے نزدیک محبت کے بیشمار مدارج ہیں۔ ان میں سے بعض مدارج زیادہ مشہور ہیں، جیسے:

  1. سب سے نچلا درجہ نجی تعلقات کا ہے یعنی اُن لوگوں سے محبت جن سے ہماری ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ اس میں دوست احباب، رشتہ دار وغیرہ سب شامل ہیں۔ “عشقِ مجازی” بھی اسی کا ایک پہلو ہے۔ سیّد نے اپنے لیکچر میں اِس کا ذکر نہیں کیا لیکن دوسری تحریروں میں ذکر کیا ہے، جس میں سے ایک تحریر کا حوالہ آیندہ آنے والا ہے۔
  2. اس کے بعد “حُبِ قومی” یعنی قوم سے محبت ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے معلوم کیا جائے کہ قوم چاہتی کیا ہے، اُس کے بعد وہ خواہش پوری کی جائے (اپنی طرف سے قوم پر کوئی نظریہ یا پروگرام مسلط کرنا قوم سے محبت نہیں بلکہ قوم کو ہائی جی یا اغوا کرنے کے مترادف ہو گا)۔
  3. اس سے اگلا درجہ انسانیت کی محبت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ پوری انسانیت مجموعی طور پر کیا چاہتی ہے اور ہم وہ خواہش پوری کرنے کی کوشش کریں۔
  4. اس کے بعد بزمِ فطرت کی محبت ہے (آج کی اصطلاح میں “ماحولیات” کی فکر کرنا بھی شاید اِسی کی ایک صورت قرار دی جا سکتی ہے)۔
  5. سب سے اونچا درجہ پوری کائنات کی محبت ہے یعنی کائنات میں اگر کہیں ایک ستارہ بھی ٹوٹے تو انسان اپنے دل میں اُس کا درد محسوس کر لے۔ یہ درجہ اپنی محنت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ صرف اُسے ملتا ہے جسے خدا عطا فرمائے۔ اسے “عشقِ حقیقی” بھی کہہ سکتے ہیں۔

سیّد نے کہا:

“یہ دیکھ کر رونا آتا ہے کہ محبت کا وہ درجہ جسے حبِ قومی کہتے ہیں، اِتنا معمولی ہے کہ حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اگر ایک کوّے کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارے کوّے بے چین ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی چیخ پکار سے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان ہو کر اگر ہم اپنے ہم مشربوں اور اپنے ہموطنوں کو تکلیف اور مصیبت میں دیکھیں اور ہمیں اُن کے دکھ درد کا احساس نہ ہو اور ہم اُن کی ہمدردی اور اعانت نہ کریں تو ہم کوّے جیسی حقیر مخلوق سے بھی بدتر ہیں۔ تمام حق شناس اصحاب اِس حقیقت کو جانتے ہیں کہ اپنے ہم مذہبوں اور ہموطنوں کی تکلیف میں اُن کے کام آنا اور اُن سے پوری پوری ہمدردی کرنا اِنسانی فرائض میں سے ایک بہت ہی ضروری فرض ہے، جسے ہمیں بہرحال اَدا کرنا چاہیے اور عمدگی و خوبی سے اَدا کرنا چاہیے۔”

محبت کے اِس تصوّر میں اپنی قوم سے محبت کرنے کے لیے کسی دوسری قوم سے نفرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ نجی تعلقات، قوم، انسانیت، بزمِ فطرت اور کائنات ایک ہی محبت کے مختلف رُوپ ہیں۔


ظاہر ہے کہ محبت کا یہ تصوّر مسلمانوں تک محدود نہ تھا۔ اُس زمانے میں پرانے خیال کے ہندو بھی ہندوؤں کی بہتری کے لیے اسی قسم کی کوششیں کر رہے تھے۔ ان کوششوں میں مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے تھے۔

سر سید نے مسلمانوں کی بہتری کے لیے جو کوششیں کیں، اُن میں نہ صرف انگریزوں بلکہ ہندوؤں نے بھی ساتھ دیا، جیسے راجہ جے کشن داس، لالہ لوک مندداس، بابو جگندرناتھ، بابو طوطارام، درشن سنگھ، ملہکی رام، پنڈت مالک رام وغیرہ۔

ان میں سے جے کشن داس، سیّد کے معتمد دوستوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ 1905 میں اُن کی وفات پر کالج ایک دن بند رہا۔ اُن کے نام پر میڈل جاری کیا گیا اور ایک ہوسٹل کا نام اُن کے نام پر رکھا گیا۔

1886 میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے قیام کے موقع پر (جس کا ذکر آگے آئے گا)، سیّد نے بعض ہندوؤں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مسلمانوں کا ایک اسکول قائم کرنے کے لیے مالی امداد دی تھی۔

بالکل اسی طرح علیگڑھ کالج میں ہندو طلبہ کو بھی داخلہ دیا جاتا تھا اور ہاسٹل میں ان کے لیے خصوصی انتظام تھا کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ جے کشن داس نے اپنی جیب سے ایک وظیفہ بھی جاری کیا تھا جو علیگڑھ کے ہندو طلبہ کے لیے مخصوص تھا۔


محّبت کے اِس تصوّر کی مکمل وضاحت سیّد کی مختصر کہانی ’گزرا ہوا زمانہ‘ (1873) میں بھی ملتی ہے۔ وہاں ایک لڑکا خواب میں ایک آسمانی دلہن کو دیکھتا ہے جو اپنا تعارف اِس طرح کرواتی ہے:

“میں ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی ہوں … جو کوئی خدا کے فرض اُس بدوی کی طرح جس نے کہا کہ ’’واللہ لا ازید و لا انقص‘‘ [’’خدا کی قسم نہ میں زیادہ کروں گا نہ کم‘‘]ادا کر کر انسان کی بھلائی اور اس کی بہتری میں سعی کرے اُس کی میں مسخر ہوتی ہوں۔ دنیا میں کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے، انسان ہی ایسی چیز ہے جو اخیر تک رہے گا۔ پس جو بھلائی کہ انسان کی بہتری کے لیے کی جاتی ہے وہی نسل در نسل اخیر تک چلی آتی ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اُسی تک ختم ہو جاتا ہے۔ اُس کی موت اِن سب چیزوں کو ختم کر دیتی ہے۔ مادی چیزیں بھی چند روز میں فنا ہو جاتی ہیں مگر انسان کی بھلائی اخیر تک جاری رہتی ہے۔ میں تمام انسانوں کی روح ہوں، جو مجھ کو تسخیر کرنا چاہے انسان کی بھلائی میں کوشش کرے۔ کم سے کم اپنی قوم کی بھلائی میں تو دل و جان سے ساعی ہو۔”

خواب سے بیدار ہونے پر لڑکا بے اختیار پکارتا ہے کہ ’’ضرور اس دلہن کو بیاہوں گا جس نے ایسا خوبصورت اپنا چہرہ مجھ کو دکھلایا اور ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی اپنا نام بتلایا، او خدا تو میری مدد کر، آمین!‘‘


اُس زمانے سے آج تک ہماری تاریخ درحقیقت اِسی “تمام انسانوں کی روح” کی تلاش کا سفر ہے، جیسا کہ آیندہ اقساط میں واضح ہوتا جائے گا۔ بقول مولانا حالی:

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھیرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں!

اِک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیشِ عشق
رکھتی ہے آج لذّتِ زخمِ جگر کہاں!

ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اور
عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تُو مگر کہاں!

ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں!



یہ دلہن جو ہمیشہ رہنے والی نیکی تھی، صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ “تمام انسانوں کی روح” تھی، اور ہم نے دیکھا ہے کہ اُس زمانے میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اِسی تصوّر کے مطابق اپنی اپنی قوم کو ترقی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

البتہ ان تمام قوموں میں سے صرف مسلمان ہی اپنی قومی زندگی کو محبت کے اِس تصوّر پر قائم کرنے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کر سکے۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے، دوسری اقوام بعض ایسے نظریات میں اُلجھ گئیں جنہوں نے بعد میں انہیں اِس تصوّرِ عشق سے دُور کر دیا۔

آئیے، سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں مسلمانوں نے اِس سلسلے میں کیا عملی اقدامات کیے۔


سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قوم سے محبت کا مطلب ہے کہ قوم کی اطاعت بھی کی جائے۔ قوم سے پوچھا جائے کہ وہ کیا چاہتی ہے اور پھر وہ خواہش پوری کرنے کی کوشش کی جائے۔

چنانچہ 1870 میں سیّد نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مسلمان سرکاری تعلیم گاہوں میں کیوں نہیں جاتے، ان میں قدیم علوم کیوں گھٹ گئے ہیں اور جدید علوم کیوں رواج نہیں پا رہے۔

انعام کا اعلان کر کے مسلمانوں سے اس موضوع پر مضامین اکٹھے کیے۔ انہیں ایک کمیٹی کے سپرد کیا گیا جس نے تمام مضامین کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن وجوہات کی بنا پر مسلمان سرکاری مدارس میں اپنی اولاد کو نہیں بھیجتے اُن میں سے اکثر درست ہیں اور سرکاری طریقۂ تعلیم مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے کافی بھی نہیں ہے۔ اس لیے اگر حکومت مسلمانوں کے لیے اپنے طریقۂ تعلیم میں کچھ تبدیلی بھی کر دے تب بھی اُن کی تمام ضرورتیں رفع نہیں ہو سکتیں:

’’مسلمانوں کو اپنے علومِ قدیمہ کے محفوظ رکھنے، علومِ جدیدہ سے مستفید ہونے اور اپنی تمام ضرورتوں کے موافق اپنی اولاد کو تعلیم و تربیت کرنے کے لیے اس کے سوا کچھ چارہ نہیں کہ اپنی تعلیم کا فکر آپ کریں۔‘‘

اِس بنیاد پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کا اپنا کالج ہونا چاہیے تاکہ اس کا انتظام قوم کے ہاتھ میں ہو۔

چنانچہ علیگڑھ کالج قائم کرنا سیّد کی انفرادی سوچ نہیں بلکہ قوم کی رائے تھی خواہ اس تک پہنچنے میں سیّد کی بصیرت نے ہی رہنمائی کی ہو۔

اُن کے دل میں قوم کی اطاعت کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ جب بعض قدامت پسند مولویوں نے یہ کہہ کر بااثر مسلمانوں کو کالج کی تعمیر میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کی کہ سیّد کے مذہبی عقائد درست نہیں ہیں تو سیّد نے اعلان کر دیا کہ نصاب سازی کی کمیٹی میں وہ خود شامل نہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا:

“آپ مجھ کو اِس مدرسۃ العلوم کے قائم کرنے میں ایک قلی چمار کے مانند تصوّر کیجیے اور میری محنت و مشقت سے اپنے لیے گھر بننے دیجیے اور اِس وجہ سے کہ اِس کا بنانے والا یا اِس میں مزدوری کرنے والا ایک قلی چمار ہے، اپنے گھر کو مت ڈھائیے۔ کیا آپ صاحب مجھ ایک بدبخت نامۂ سیاہ کی شامتِ اعمال سے اپنی تمام قوم کو اور اُن کی اولاد کو نسلاً بعد نسل ڈبونا اور خراب و خستہ حالت میں ڈالنا چاہتے ہیں؟ … اگر مجھ کو بدعقیدہ و کافر اور مرتد جانتے ہو اور میرے ہاتھ سے اِس کام کا ہونا ناپسند کرتے ہو … میں علاحدہ ہونے پر تیار ہوں، کوئی دوسرا شخص … اِس تمام کام کو انجام دے … مگر یہ بات کسی طرح پسندیدہ نہیں ہے کہ نہ آپ کریں اور جو کوئی دوسرا کرے تو اُس کو کافر و مرتد بتلاویں۔”


علیگڑھ کالج کا ایک منظر

چنانچہ سیّد نے تعلیم عام کرنے کے لیے جو کوششیں کیں وہ قوم کی اطاعت میں تھیں۔ ان کی یہ خدمات اتنی مشہور ہیں کہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

البتہ بعض غلط فہمیاں دُور ہو جانی چاہئیں، جیسے یہ غلط فہمی کہ تعلیم ان کے لیے بجائے خود کوئی مقصد تھی۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایسا نہیں تھا۔ اُن کی نظر میں تعلیم پورے معاشرے سے دُکھ درد ختم کرنے کی طرف ایک قدم تھی۔


دوسری عام غلط فہمی یہ ہے کہ کالج قائم کرنا ان کی انفرادی رائے تھی۔

جیسا کہ ہم نے یہاں دیکھا، یہ ان کی انفرادی رائے نہیں بلکہ ایک اجتماعی رائے تھی (یہ کالج 1877 میں قائم ہوا اور سر سید کی وفات کے بہت عرصے بعد 1920 میں یونیورسٹی بنا)۔


جسٹس سید محمود

سنگین ترین غلط فہمی یہ ہے کہ سیّد نے مسلمانوں کو جدید تعلیم یا انگریزوں کی دی ہوئی تعلیم کی ترغیب دی۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔ علیگڑھ میں کالج بنانے کی وجہ ہی یہ تھی کہ قومی کمیٹی کے مطابق انگریزوں کے قائم کیے ہوئے تعلیمی ادارے مسلمانوں کے لیے مناسب نہیں تھے۔  اسی لیے مسلمانوں کا اپنا کالج تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی اور بعد میں ملک بھر میں اسلامیہ اسکولوں، اسلامیہ کالجوں جیسے ادارے پھیلانے کی کوشش ہوئی۔

ورنہ صرف انگریزی یا جدید تعلیم کے لیے انگریزوں کے اپنے بنائے ہوئے اسکول کالج بہت تھے۔ سیّد اور دوسرے مسلمانوں کی کوششیں قومی تعلیم کے لیے تھیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سیّد کے مطابق انگریزوں کےقائم کیے ہوئے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ملنے والی تعلیم مسلمانوں کی تاریخ کے خلاف ایک ایسی نفرت پیدا کر رہی تھی جس کے نتائج تمام قوموں کے حق میں تباہ کن ثابت ہونے والے تھے (پچھلی قسط میں تفصیل سے ذکر ہو چکا ہے)۔

چنانچہ جب کمیٹی نے یہ فیصلہ دیا کہ مسلمانوں کا اپنا کالج بنایا جائے تو سیّد کے صاحبزادے محمود نے، جو اُس وقت انگلستان میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، انگلستان کے تعلیمی اداروں اور اپنے دوستوں سے مشورے کے بعد مجوزہ کالج کے لیے ایک اسکیم تیار کی اور وطن واپس آنے کے بعد فروری 1873 میں کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔

محمود نے کہا کہ کالج اِس ارادے سے قائم کیا جائے کہ اسے یونیورسٹی بنایا جائے گا۔ اس حوالے سے انہوں نے کچھ تجاویز پیش کیں جن میں سب سے پہلی یہ تھی کہ حکومت نگرانی کرنے کے سوا اور کسی قسم کی مداخلت نہ کرے (’’بجز اس کے کہ گورنمنٹ نگرانِ حال رہے اور کسی قسم کی مداخلت گورنمنٹ کی اِس دارُالعلوم میں نہ ہونی چاہیے‘‘)۔

وجہ انہوں نے اِس طرح بیان کی:

“سب سے عمدہ مدارس تعلیمِ علوم کے یورپ میں بھی … اُس ملک کی گورنمنٹ کی مداخلت اور انتظام سے علیٰحدہ ہیں، اور یہ بات اُن ملکوں کی ہے جہاں کی گورنمنٹ اُسی قوم کی ہے جس کی کہ تعلیم منظور ہے۔ پس یہ دلیل ہندوستان میں کس قدر زیادہ قوی ہو جاتی ہے جہاں کہ گورنمنٹ [اُن لوگوں پر مبنی ہے] جن کی زبان اور مذہب اور خیالات ہم سے مختلف ہیں۔”


قوم سے محبت کے پرانے تصوّر کے مقابلے پر جو دو نئے نظریات سامنے آئے، وہ نسل پرستی اور فاشزم تھے۔

ان میں سے پہلے نظریے کی ایک جھلک ہم پچھلی قسط میں دیکھ چکے ہیں کہ مغربی تعلیم نے ہندوؤں کے دلوں میں ماضی کے مسلم دورِ حکومت کے خلاف نفرت پیدا کی۔ اس کی وجہ سے 1867 میں بنارس کے بعض تعلیم یافتہ ہندوؤں نے اُردو کے خلاف مہم چلائی۔

1875 میں یہ ایک باقاعدہ نظریہ بن گیا جب سوامی دیانند سرسوتی کی کتاب “ستیارتھ پرکاش” شائع ہوئی۔ یہ ہندی زبان میں ایک ضخیم کتاب تھی جس میں کہا گیا تھا کہ خدا نے ہندوؤں کی چار مقدس ویدوں کے سوا کوئی اور کلام نازل نہیں کیا ہے۔ انسانی تہذیب، ویدوں کی بدولت ہندوستان کی آریائی نسل نے شروع کی اور یہاں سے دنیا کے دوسرے حصوں میں پہنچی۔ ہندومت کے سوا اور تمام مذاہب جھوٹے اور ساری تہذیبیں ناقص ہیں۔ مصنف نے صرف ہندومت کی ایک نئی تشریح ہی پیش نہیں کی بلکہ عیسائیت اور اسلام پر سخت حملے بھی کیے۔

اس علمی اور ثقافتی نظریے کے پرچار کے لیے دیانند نے 10 اپریل 1875 کو بمبئی میں آریہ سماج کی بنیاد رکھی جس کی شاخیں جلد ہی ہندوستان کے دوسرے حصوں میں قائم ہونے لگیں۔ آگے چل کر اس تحریک سے ہندو مہاسبھا، سنگھٹن اور شدھی نے جنم لیا جو بھارت کی موجودہ انتہاپسند مذہبی اور سیاسی تحریکوں میں سے اکثر کی مورثِ اعلیٰ ہیں جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھی شامل ہے۔



اس زمانے میں یورپ میں بھی آریائی نسل کی برتری کا فلسفہ جنم لے رہا تھا جس نے آگے چل کر نازی ازم کی صورت اختیار کی۔

چنانچہ ایک سوال جس پر ہم غور سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ جس طرح جرمن نازی ازم کی وجہ سے یورپ میں دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی کیونکہ ہٹلر سمجھتا تھا کہ پورے یورپ پر آریائی نسل کے جرمنوں کو حکومت کرنے کا حق ہے، کیا بالکل اُسی طرح ہندو نازی ازم کی وجہ سے اب جنوبی ایشیا جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے؟

ہم چاہے اپنی تاریخ بھول چکے ہوں لیکن شعوری یا غیرشعوری طور پر ہم ہندو نازی ازم کے مقابلے میں اُسی محبت کے نظریے کو دہرا رہے ہیں جو ہماری تاریخ کا تقاضا ہے۔ ایسے میں اپنی تاریخ کے صحیح شعور سے ہم اُس پالیسی پر بہتر طور پر عمل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں جو موجودہ لمحے میں پاکستان نے بھارت کے جنگی جنون کے مقابلے میں پیش کی ہے۔


Two nuclear armed countries can't even think about a War: Prime Minister Imran Khan 🇵🇰We haven't kept our nuclear bombs for Diwali celebrations, they are to be used: Prime Minister Narendra Modi 🇮🇳

Posted by Pakistan Defence on Monday, April 29, 2019

ومیش چندر بونرجی

27 دسمبر 1885 کو بمبئی میں انڈین نیشنل کانگرس کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ یہ جماعت اُن لوگوں نے قائم کی تھی جن کی تعلیم انگریزوں کے قائم کیے ہوئے تعلیمی اداروں میں ہوئی تھی۔ افتتاحی اجلاس میں 72 نمایندے شامل ہوئے جن میں سے صرف دو مسلمان تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ 1919 تک مسلمان کانگرس سے دُور ہی رہے۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ومیش چندر بونرجی نے کہا کہ وہ اور وہاں جمع ہونے والے نمایندے برطانوی حکومت کی وفاداری اور خیرخواہی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ کانگرس یہ بات بہت پرزور طور ہر 1920 تک دہراتی رہی، جس کی کچھ مثالیں آیندہ پیش کی جائیں گی۔ یہاں یہ تذکرہ کرنے کا مقصد صرف وہ بات یاد دلانا ہے جو اوپر لکھی جا چکی ہے کہ اُس زمانے میں ہندوستان کی اہم ترین تحریکیں انگریزوں سے محبت کے دعوے پر ہی قائم ہوئی تھیں۔

کانگرس کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ ہندوستان میں نمایندہ حکومت (رپرنٹیٹیو گورنمنٹ) یعنی جمہوری حکومت ہو۔ اس کے علاوہ سول سروس کے امتحان انگلستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی ہوں تاکہ ہندوستانی بھی زیادہ سے زیادہ تعداد میں بیوروکریسی میں شامل ہو سکیں۔

فی الحال اس مطالبے یا دوسری اچھی بری باتوں کی بجائے صرف یہ بتانا ہے کہ قومیت کے بارے میں کانگرس کا تصور کس طرح اُس تصورِ عشق سے مختلف تھا جس پر سر سید اور پرانے خیال کے لوگ قائم تھے۔

کانگرس کا کہنا تھا کہ ہندوستان بالکل اُسی طرح ایک ملک اور ایک قوم ہے جس طرح فرانس یا انگلستان وغیرہ ہیں۔ لیکن عوام کی اکثریت اس بات سے واقف نہیں ہے کیونکہ اکثریت ان پڑھ، جاہل اور گنوار ہے۔ چنانچہ پڑھے لکھے ہندوستانی ہی فیصلہ کر سکتے ہی کہ عوام کس قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے کہ وہ عوام کی قومیت کا فیصلہ کرنے کے بعد عوام کو اُسی کے مطابق چلنے کی ترغیب دیں۔

یہ نظریہ بنیادی طور پر وہی ہے جو تیس چالیس برس بعد یورپ میں فاشزم کی صورت میں اقتدار میں آیا۔ چنانچہ 1937 سے کانگرس بھی عملاً ایک فاشسٹ جماعت بن گئی اور قائداعظم نے کانگرسی قیادت کو “فاشسٹ گرینڈ کونسل” کے لقب سے پکارنا شروع کر دیا۔


1886 میں یہ عجیب و غریب واقعہ پیش آیا کہ ایک ہندوستانی نے برطانوی پارلیمنٹ کے انتخاب میں لندن کے ایک حلقے سے لبرل پارٹی کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔ یہ ہندوستانی، عظیم پارسی رہنما دادا بھائی نوروجی تھے۔ ان کی انتخابی مہم کے پہلے جلسے میں مشہور برطانوی سماجی کارکن فلورنس نائٹنگیل کا خط پڑھ کر سنایا گیا جنہوں نے نوروجی کی حمایت کی تھی۔ نوروجی نے اپنے انگریز ووٹروں کو مخاطب کر کے کہا:

“اگرچہ میں ہندوستان کے پچیس کروڑ باشندوں کا نمایندہ ہوں جو آپ ہی کی طرح برطانوی سلطنت کی رعایا ہیں، لیکن اب جبکہ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں تو میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرا فرض کیا ہے۔ یعنی اگر آپ مجھے منتخب کریں تو میری پہلی ذمہ داری یہ ہو گی کہ میں اِس حلقے کے ووٹروں کے مفادات کو مکمل اور بھرپور طور پر پیشِ نظر رکھوں۔ اس لیے فی الحال میں ہندوستان کا مقدمہ آپ کے سامنے پیش نہیں کرنا چاہتا۔”

نوروجی اس انتخاب میں کامیاب نہ ہو سکے (1892 میں ہوئے)۔ لیکن یہ بات بجائے خود بڑی اہم تھی کہ “محکوم” ہندوستانی قوم کا ایک فرد “حکمراں” انگریز قوم کی ایک اہم سیاسی پارٹی کا نمایندہ قرار پایا اور برطانوی پارلیمنٹ کے انتخاب میں حصہ لیا۔ یہاں بالکل واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے اِس بہت بڑے مجاہد کے لیے ہندوستان کی محبت اور برطانیہ کی محبت ایک ہی جذبے کے دو پہلو تھے:

عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سِوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام!


یہ وہ تخیل تھا جو ایک طرف ہندوستان میں سر سید کے تصورِ عشق کی صورت میں پرورش پا رہا تھا تو دوسری طرف برطانوی ضمیر میں بھی بتدریج نشو و نما حاصل کر رہا تھا۔

1858 سے 1886 وہ عرصہ ہے جب برطانیہ آہستہ آہستہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اُس نے جن علاقوں کو فتح کر رکھا ہے، ان کے درمیان تعلقات کی بنیاد باہمی مشاورت پر قائم ہونی چاہیے۔

1867 میں ایک مفتوحہ علاقے، کینیڈا کو حکومت کرنے کا حق دے دیا گیا۔ 1886 میں برطانوی سیاستدانوں نے تمام مفتوحہ ممالک کے نمایندوں کی باہمی مشاورت کے لیے کانفرنس بلوائی جو پہلی دفعہ 1887 میں منعقد ہوئی (اس کا ذکر بھی اگلی قسط میں ہو گا)۔

اس پالیسی کے مطابق ایک دن ہندوستانوں کو بھی اپنی حکومت خود بنانے کا حق ملنے والا تھا۔ آگے چل کر بھی مسلمانوں کے نمایندہ ترین رہنماؤں، مثلا علامہ اقبال اور قائداعظم نے کبھی اِس بات میں شبہ ظاہر نہیں کیا کہ انگریز واقعی یہ نیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ انگریز حکمراں جان بوجھ کر ہندوستان کی آزادی کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک ملتوی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک طرف برطانوی نظام میں جان برائٹ اور ملکہ وکٹوریہ جیسے کشادہ دل لوگ موجود تھے جو کمزور قوموں کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتے تھے اور دوسری طرف ایسے عناصر بھی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہے تھے جو زیادہ سے زیادہ عرصے تک دوسروں کو غلام رکھنا اور کمزور قوموں کا استحصال کرنا چاہتے تھے۔ بالخصوص افریقہ میں تو انہوں نے ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے۔

اس لحاظ سے اُردو کے عظیم ناول نگار ابن صفی کے ناول “تین سنکی” (1975) کے ایک کردار کا یہ جملہ بہت معنی خیز ہے:

“یہ فرنگی بھی عجیب ہوتے ہیں۔ ان کی ایک ٹولی تو لوگوں پر گولیاں برساتی ہے اور دوسری ٹولی زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی پھرتی ہے۔ ان کا نشان ایک دوسری کو کاٹتی ہوئی دو سرخ لکیریں ہوتی ہیں۔!”

ابن صفی کے سیاسی افکار کے بارے میں مزید جاننے کے لیے میری کتاب “دانش منزل” ملاحظہ کیجیے۔



کسی نہ کسی سطح پر برطانوی قوم کو خود بھی اِس حقیقت کا ادراک رہا ہو گا کیونکہ جنوری 1886 ہی میں اسکاٹ مصنف رابرٹ لوئی اسٹیونسن نے انگریزی ادب کا وہ لازوال کردار پیش کیا جو دوہری شخصیت رکھتا ہے۔

اسٹرینج کیس آف ڈاکٹر جیکل اینڈ مسٹر ہائیڈ” کا خلاصہ یہ ہے کہ ڈاکٹر ہنری جیکل نامی ایک نیکدل معالج ایک ایسی دوا ایجاد کر بیٹھتا ہے جو اُس کے باطن کے خبیث انسان کو حاوی کر کے اُسے ایک بے ضمیر شخصیت بنا دیتی ہے، جس کا نام مسٹر ہائیڈ ہے۔ ایک اور دوا پینے سے وہ واپس جیکل بن جاتا ہے۔

ہائیڈ اِس حد تک درندہ صفت ہے کہ قتل بھی کر بیٹھتا ہے اور جیکل فیصلہ کرتا ہے کہ اب وہ کبھی دوبارہ ہائیڈ نہیں بنے گا۔

لیکن پھر یوں ہونے لگتا ہے کہ کبھی کبھی جیکل دوا پیے بغیر ہی ہائیڈ میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ البتہ ہائیڈ سے دوبارہ جیکل بننے کے لیے اُسے اب بھی دوسری دوا کی ضرورت ہے۔ یہ دوا ایک دن ختم ہو جاتی ہے، اور بعض وجوہات کی بنا پر جیکل اسے دوبارہ بنانے سے قاصر رہتا ہے۔ تب وہ ایک خط میں اپنی پوری کہانی لکھنے کے بعد خودکشی کر لیتا ہے۔

یہ کہانی مصنف پر خواب میں نازل ہوئی اور چھپتے ہی اتنی مقبول ہوئی کہ چھ ماہ میں صرف انگلستان ہی میں تقریباً چالیس ہزار کاپیاں فروخت ہو گئیں۔ یہ ناول اُن لوگوں نے بھی پڑھا جنہیں کہانیوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ گرجاؤں میں وعظ کے دوران اس کے حوالے دئیے جانے لگے یہاں تک کہ صدی کے اختتام تک اس کی فروخت لاکھوں میں پہنچ گئی اور ’’جیکل اینڈ ہائیڈ‘‘ انگریزی زبان کا محاورہ بن گیا۔

برطانیہ اُس وقت دنیا کی سیاست میں بلکہ انسانی تاریخ میں جو کردار انجام دے رہا تھا اُس کی اس سے بہتر مثال شاید ممکن نہیں ہے۔



سمیع اللہ خاں

27 دسمبر 1886 کو سیّد نے علیگڑھ میں ہندوستان کے سرکردہ مسلمانوں کا اجلاس کیا جس میں مختلف علاقوں سے اکسٹھ لوگ آ کر شریک ہوئے (کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال کے استاد مولوی میر حسن بھی گئےتھے)۔ ان کے علاوہ انگریز اور ہندُو ہمدرد موجود تھے۔ کالج کے اساتذہ اور طلبہ کو بھی شامل کر لیا گیا۔

جلسے کی صدارت کرتے ہوئے مولوی حاجی محمد سمیع اللہ خاں رئیس دہلی نے کہا:

“اے صاحبان! آج کا جلسہ ایک ایسا جلسہ ہے کہ جو مسلمانوں کی تاریخ میں اگر وہ لکھی جاوے گی تو ایک بینظیر جلسہ شمار کیا جاوے گا … ہمارے ملک میں بیشک لوگوں کے دلوں میں قوم کے سنبھالنے کا خیال پیدا ہوا اور لوگوں نے مختلف طریقے اس کے اختیار کیے ہیں اور ہر ایک جگہ اپنے اپنے مقاصد کے لحاظ سے تعلیم پر خیال کیا جاتا ہے۔ مگر ہر ایک جگہ مختلف طریقے اس کے خیال کیے گئے ہیں اور اختیار کیے گئے ہیں۔ …اگر ہماری قوم آپس میں متفق ہو کر اور صلاح اور مشورہ کر کے اور ایک دوسرے کے خیالات سے واقف ہو کر کوئی مضبوط طریقہ قوم کی تعلیم اور ترقی کا اختیار کرے تو بلاشبہ قوم کے لیے بہت زیادہ مفیدہو۔”

سیّد نے قرارداد پیش کی:

“مسلمانوں میں ہر قسم کی تعلیم کے تنزل کا لحاظ کر کے اور اِس خیال سے کہ اُن کی ہر قسم کی تعلیم کی ترقی میں قومی اتفاق اور قومی اِمداد سے کوشش کی جاوے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر سال اِن اُمور پر غور کرنے کے لیے مختلف اضلاع کے لوگوں کا ایک جلسہ ہوا کرے جو محمڈن ایجوکیشنل کانگرس کے نام سے موسوم ہو۔ یہ جلسہ کسی خاص مقام پر مخصوص نہ ہو گا بلکہ ہر سال کسی ایسے مقام میں جہاں کے لوگ اِس جلسے کے منعقد ہونے کی خواہش کریں اور اِس کا انتظام منظور فرماویں، منعقد ہوا کرے گا۔”

وضاحت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا:

“اِس وقت ہمارا یہ حال ہے کہ گو ہم ایک قوم مسلمان کہلاتے ہیں مگر ایک جگہ کے رہنے والے دُوسری جگہ کے رہنے والوں سے ایسے ہی ناواقف ہیں جیسے کوئی اجنبی قوم ایک دوسرے کے حال سے ناواقف ہو … کوئی ذریعہ ہمارے پاس ایسا نہیں ہے کہ مختلف اَضلاع کے لوگ کسی موقع پر آپس میں ایک جگہ جمع ہوں، ایک کے حال سے دُوسرے کو آگاہی ہو۔ ہم آپس میں مل کر اپنے خیالات جو قومی تعلیم اور قومی ترقی کی نسبت ہوں، وہ دُوسروں پر ظاہر کر سکیں، ایک دُوسرے کے خیالات سے تبادلہ ہو۔ جو غلطی ہمارے خیال میں ہو، وہ دُوسروں کے خیال سے بخوبی اِصلاح پاوے … آپس میں ملنے سے اور مختلف اُمور پر جو مذہبی تعلیم اور قومی ترقی سے علاقہ رکھتے ہیں، بحث مباحثہ یا تذکرہ و مذاکرہ کرنے سے ضرور ہے کہ کوئی عمدہ راہ قومی ترقی اور قومی تعلیم کی ہاتھ آوے۔ ہر ایک ضلعے کے لوگ جو مختلف راہیں چلتے ہیں، وہ سب سمجھ بوجھ کر ایک ایسا سیدھا رَستہ قومی تعلیم کے لیے اختیار کریں جو منزلِ مقصود کو پہنچانے والا ہو۔”

قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی اور محمڈن ایجوکیشنل کانگرس قائم ہوئی جس کا نام کچھ سال بعد بدل کر محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس رکھ دیا گیا۔


اس طرح برصغیر کے مسلمانوں نے طے کیا کہ وہ اِس اصول کی بنیاد پر آگے بڑھیں گے کہ ایک دوسرے سے اپنی بات منوانے کی بجائے یہ نیت رکھی جائے کہ “جو غلطی ہمارے خیال میں ہو، وہ دُوسروں کے خیال سے بخوبی اِصلاح پاوے۔” (امریکی مصنفہ میری پارکر فولیٹ نے 1918 میں اپنی کتاب “نئی ریاست” میں اپنے طور پر یہی اصول پیش کر کے اس کی اتنی مکمل وضاحت کر دی کہ اُس سے زیادہ شاید ممکن نہیں ہے)۔

قسط کے شروع میں فیاض ہاشمی کا جو نغمہ طلعت محمود کی آواز میں پیش کیا گیا،  اُس کا مرکزی خیال بھی محبوب کی مرضی معلوم کرنا ہے۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ محبوب کی تصویر اِس لیے کافی نہیں ہے کہ نہ یہ اقرار کر سکتی ہے، نہ انکار کر سکتی ہے۔ اس لیے شاعر کو جیتا جاگتا محبوب چاہیے جو نہ صرف شاعر کی مرضی سے آگاہ ہو سکے بلکہ اپنی مرضی بھی بتا سکے اور دونوں ایک دوسرے کے ارادوں کا احترام کریں۔

بالکل اسی طرح 1886 میں برصغیر کے مسلمانوں نے قوم کی اُس تصویر کو مسترد کر دیا جو مغربی تعلیم نے ہندوستان کے سامنے پیش کی تھی اور جسے کانگرس نے گلے لگا لیا تھا۔ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بانیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی جیتی جاگتی قوم کی مرضی معلوم کرنا چاہتے ہیں:

تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی
یہ تیری طرح مجھ سے تو شرما نہ سکے گی

میں بات کروں گا تو یہ خاموش رہے گی
سینے سے لگا لوں گا تو یہ کچھ نہ کہے گی
آرام وہ کیا دے گی جو تڑپا نہ سکے گی!

یہ آنکھیں ہیں ٹھہری ہوئی، چنچل وہ نگاہیں
یہ ہاتھ ہیں سہمے ہوئے اور مست وہ بانہیں
پرچھائیں تو انسان کے کام آ سکے نہ گی!

اِن ہونٹوں کو فیاضؔ میں کچھ دے نہ سکوں گا
اِس زُلف کو میں ہاتھ میں بھی لے نہ سکوں گا
اُلجھی ہوئی راتوں کو یہ سُلجھا نہ سکے گی!



اگلی قسط جمعہ 10 مئی کو پیش کی جائے گی۔ یہ “آزادی” کے تیسرے باب پر مبنی ہو گی لیکن پچھلی دونوں قسطوں کی طرح اس میں بھی کچھ دلچسپ اضافے کیے جا رہے ہیں۔


اب میری درخواست ہے کہ آپ میرے ایک سوال کا جواب اپنے کمنٹ کی صورت میں لکھیے۔ سوال یہ ہے:

    • کیا آپ کے خیال میں آج ہمیں سر سید احمد خاں کے تصورِعشق کی ضرورت ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟

“تمام انسانوں کی رُوح” پر 4 تبصرے

  1. گو کہ یہ ایک تلخ بات ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ حقیقت پر مبنی ہے کہ ہمیں دوسرے سے تو کیا اپنے آپ سے بھی محبت نہیں ہے۔ ہم آج بھی اپنے آپ کو حقیر جانتے ہیں اور ایسا کون سمجھتا ہے؟ وہ جنہوں نے تعلیم حاصل کی ہے، جنہیں ہم باشعور گردانتے ہیں، جن کی ایک کلاس کو ہم ٹیکنو کریٹ مانتے ہیں۔ اپنے آپ سے محبت نہ ہونے کی وجہ سے ہم دوسروں سے بھی محبت نہیں کرتے۔ ہم بحیثیت قوم کہ اپنے آپ کو ایک وجود ایک قالب میں ڈھالنے کی سعی نہیں کرتے۔ سیمرغ اور مرغدین کا حصول تب ہی ممکن ہے کہ ہم سرسید کے تصورِ عشق کو پروان چڑہائیں، اپنا آپ پہچانیں، حقیقی معنوں میں بلا تفریق لسانیت، صوبائیت اور مذہب کے ایک قوم، ایک قالب میں ڈھالیں۔ اپنے قومی رہنماؤں کی عزت کرنا سیکھیں، سیاسی اختلافات کو نفرت میں تبدیل نہ کریں۔ اکثریت کے فیصلوں کا احترام کرنا سیکھیں۔

  2. بہت دلچسپ تحریر تھی۔ سر سید کے تصور عشق کی ضرورت ہر قوم کو ہر دور میں رھے گی-الحمد للہ ہماری قوم میں اس تصور کی جھلک اب بھی موجود لیکن اسے مزید پروان چڑھانے کی ضرورت ہے-

  3. ہمیں سر سید احمد خاں کے تصورِ عشق کی آج بھی اتنی ہی ضرورت ہے- میں آپ کے خیال سے بلکل متفق ہوں “کہ سیّد کی تمام کوششوں کے پیچھے جو مرکزی خیال کارفرما تھا وہ غربت اور خوف سے آزاد معاشرے کا قیام تھا اور یہ خیال اُس زمانے سے آج تک ’’تجربےکے ساتھ ساتھ‘‘ بڑھ رہا ہے۔” اقبال کے نزدیک سیّد کے خیالات اسی قسم کے تھے جو ’’ایک سے زیادہ جنریشنز‘‘ کے ذریعے بتدریج اپنے تمام امکانات کوظاہر کریں۔
    ہمیں واقعی اس بات کو علامہ اقبال کے اس قول کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ “کبھی کبھی انسانی فکر کی تاریخ میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے شعور کی سطح پر ایک بہت بڑا خیال ظاہر ہوتا ہے جس میں عملی فوائد کی ایک دنیا چھپی ہوئی ہے … لیکن اس کے مختلف پہلوؤں کو ذہنی طور پر حل کرنے کے لیے طویل مدّت درکار ہے … وہ خیال تجربے کے ساتھ ساتھ اپنے اطلاق کے امکانات ظاہر کرتا چلا جاتا
    ہے، اور بعض اوقات ایک سے زیادہ جنریشنز کے مفکر کام کرتے ہیں تب کہیں جا کر تمام امکانات پورے ہوتے ہیں۔

  4. حسب روایت ایک خوبصورت معلوماتی تحریر۔
    جو شروع مین ایک سوال پوچھا گیا کہ ؛ تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی؛ ین شاعر کے لئے محبوب کی تصویر ہی کافی کیون نہین تو اس سوال کا جواب بھی شاعر نے خود ہی دے دیا۔ کہ تصویر نہ تو کسی بات کا جواب دے گی نہ کسی بات پہ شرمائے گی اور نہ ہی تڑپا سکے گی یعنی کسی بھی قسم کا response نہین دے گی۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی بت کے سامنے بیٹھ کر دل کی بات کی جائے اور کوئی جواب نہ ملے۔ اس لئے شاعر کا درد اور شکایت بجا ہے۔ کمال کی شاعری ہے فیاض ہاشمی کی۔ ہر لفظ اپنے اندر کئی معنی رکھتا ہے۔ اس مین بھی کوئی نہ کوئی چھپا ہوا پیغامُ ہو گا میرے خیال مین تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزادی کے تصور یا آزاد ہونے مین کیا۔ فرق ہے۔ ایسے ہی جیسے اگر پاکستان نہ بنتا تو ہم آزادی کا تصور ہی کرتے اور صحیح معنون مین آزادی کیا ہے پتہ ہی نہین چلتا۔ اس کے لئے ہمین ہر لمحہ خدا کے بعد اپنے لیڈرون اور دانشورون( سر سید سے لیکر اقبال اور قائد تک) کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔ جن کی محنت اور آگاہی سے آج ہم آزاد ہین
    سر سید احمد خان جیسے لوگوں اور انکے تصور عشق کی آج بھی ضرورت ہے بلکہ شائد پہلے سا زیادہ ہے۔ کیون یا کیون نہین یہ تو اگلی قسط مین پڑھ لین گے۔
    ایک اور نام جس کا چرچا آجکل پڑوسی ملک مین بھی بہت ہوتا ہے وہ دیا نند سر سوتی ہے۔ جس شدو مد کے ساتھ ان حضرت کا ھندو۔ ھندو تا اور ھندوستاں کے تناظر مین زکر کیا جاتا ہے تو مین کوئی ماضی قریب کی ھندو شخصیت سمجھتی رہی۔
    اگر ھندوستاں مین ھندو تا زور پکڑ گیا تو وہان کے مسلمانان کیے پاس کونسا راستہ ہوگا۔ کیا ان کو بھی آزادی کی تصویر سے دل بہکانا ہو گا یا آزاد ہونا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے