“اقبال کی منزل” شائع ہو گئی ہے


منزل ہے کہاں تیری اے لالۂ صحرائی!

اِس کتاب میں علامہ اقبال کی زندگی کے بہت سے شاندار پہلو بالکل پہلی دفعہ سامنے آ رہے ہیں۔ پوری کتاب اِس طرح لکھی گئی ہے کہ آپ کی دلچسپی شروع سے آخر تک برقرار رہے۔

یہ کتاب اُس زمانے کی جیتی جاگتی تصویر آپ کے سامنے پیش کرتی ہے جو برصغیر کی تاریخ میں ایک فیصلہ کُن دَور تھا یعنی 1927ء سے 1946ء۔ اگرچہ علامہ اقبال کی وفات 1938ء میں ہوئی لیکن کتاب میں مزید آٹھ برس کا احاطہ کر کے اسے اُس واقعے پر ختم کیا جا رہا ہے جو علامہ اقبال کی عمر بھر کی کوششوں کا ایک نتیجہ تھا۔ اِسی لیے کتاب کا عنوان “اقبال کی منزل” ہے۔


یہ کتاب رائٹ وژن پبلی کیشنز لاہور نے شائع کی ہے اور قیمت پندرہ سو روپے ہے، جس میں اندرونِ پاکستان محصولڈاک شامل ہے۔ حاصل کرنے کے لیے ناشر کے نمایندوں سے رابطہ کیجیے:

بلال بٹ
0313-8780107
رائٹ وژن پبلی کیشنز
042-35191194
ایمیل:
rvcpak@gmail.com

مزید معلومات کے لیے یا کسی دشواری کی صورت میں براہِ راست ناشر یا مصنف سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔:
ناشر اجمل شاہ دین
ajmalshahdin@gmail.com
مصنف خرم علی شفیق
khurramsdesk@gmail.com


یہ علامہ اقبال کی پہلی مستند سوانح ہے۔ ’’مستند‘‘ سے میری مراد یہ ہے کہ ہر ممکن حد تک دستاویزی شواہد سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔

اب تک کسی سوانح میں یہ خیال نہیں رکھا گیا تھا بلکہ ہر سوانح نگار نے زبانی روایات کو بہت زیادہ اہمیت دی۔ اقبالیات کے شعبے میں یہ چلن اتنا عام ہے کہ میں نے بھی  مدتوں اسی پر عمل کیا۔  اقبال کی زندگی کے آخری زمانے کے بارے میں اپنی تحقیق مکمل کرنے کے بعد ہی  مجھ پر حقیقت واضح ہو سکی۔ وجہ یہ تھی کہ اس زمانے سے متعلق دستاویزی شواہد بہت زیادہ دستیاب ہیں۔


اس لیے مجھے یہ نئی سیریز لکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، جس کا صرف متن اور مواد ہی نہیں بلکہ موضوع بھی مختلف ہے۔ یہاں میرا مقصد اُس تصوّر کو پیش کرنا نہیں ہے جو ماہرین کے ذہنوں میں اقبال کے حوالے سے موجود ہے بلکہ اُن حقائق کا کھوج  لگانا ہے جو دستاویزی شواہد کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں۔


یہاں روایات کو عموماً حاشیوں میں جگہ دی گئی ہے اور جہاں تک ممکن ہوا ان پر تنقیدی  نگاہ بھی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کے متن میں اگر کوئی روایت شامل ہے تو اُس کے ذریعے صرف راوی کے نقطۂ نگاہ کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ورنہ جہاں تک خود سوانح کا تعلق ہے، وہ تقریباً تمامتر دستاویزی شواہد کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ممکن ہے کہ یہ صرف اقبالیات ہی نہیں بلکہ سوانح نگاری کے میدان میں بھی ایک نیا تجربہ ہو۔ چنانچہ یہ سیریز میری پرانی کتابوں کا مختلف ایڈیشن نہیں ہے بلکہ یہ  بالکل مختلف کتابوں پر مشتمل ہے۔

 “اقبال کی منزل”، اس سیریز  میں سب سے پہلے پیش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ یہ اقبال کی زندگی کے آخری  زمانے کے بارے میں ہے لیکن اِسے سب سے پہلے پیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہماری تاریخ  میں شاید سب سے زیادہ فیصلہ کن دَور تھا یعنی  ۱۹۲۷ء سے ۱۹۴۶ء  کا عرصہ۔ اگرچہ اقبال کی وفات ۱۹۳۸ء میں ہوئی لیکن کتاب کو مزید آٹھ برس آگے تک لے جا کر تاریخ کے اُس واقعے پر ختم کیا گیا ہے جسے صحیح معنوں میں ’’اقبال کی منزل‘‘ کہہ سکتے ہیں۔


اِس سے پہلے کے عرصے پر بھی  دو کتابیں بہت جلد پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ اقبال کی پوری زندگی  اسی  معیار کی تحقیق کے احاطے میں آ سکے۔ پہلی کتاب کا نام “اقبال کی جستجو”  ہو  گا جس میں  شروع سے ۱۹۰۶ء کے عرصے تک کے سوانح ہوں گے۔ دوسری کتاب “اقبال کا راستہ” ہو گی، جو ۱۹۰۷ء سے ۱۹۲۶ء کے عرصے پر محیط ہو گی۔


اس کتاب کے بعض منتخب موضوعات پر مشتمل پوسٹس ملاحظہ کیجیے۔


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے