آزادی

 


"آزادی، 1858 سے 1947” میں کوشش کی گئی ہے کہ ہماری صحیح اور مستند تاریخ آسان الفاظ میں قارئین تک پہنچ جائے۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ کتاب پڑھنے کے بعد آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ یہ تاریخ اب تک ہمارے سامنے نہیں آئی تھی۔

یہ درست ہے کہ پہلے بھی بہت سے لوگ کہہ چکے ہیں کہ ہماری صحیح تاریخ ہم تک نہیں پہنچی لیکن میری بات اِس لحاظ سے مختلف ہے کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ جو تاریخ ہم تک نہیں پہنچی وہ تمامتر مثبت پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ ہمارے سامنے ہماری جو تاریخ پیش کی جاتی رہی ہے وہ نہ صرف ناقص اور بیشتر فرضی ہے بلکہ وہ ہماری قوم کو بھی خواہ مخواہ ایک منفی رنگ میں پیش کرتی ہے۔

اگر کوئی اپنی قوم کو زیادہ بہتر بنا کر دکھانے کے لیے جھوٹ بولے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن یہ کیسی عجیب و غریب بات ہے کہ اصل حقائق تمام کے تمام کسی قوم کے حق میں ہوں اور وہ خواہ مخواہ اپنے بارے میں ایسے جھوٹ گھڑتی رہے جن سے وہ اچھی نہیں بلکہ بری ثابت ہوتی ہو!

ہمارے ساتھ یہی ہوا ہے۔ خدا کے لیے یہ مت پوچھیے گا کہ ایسا کیوں ہوا اور کس نے کیا۔ مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ میں جب بھی کسی سیمینار یا ورکشاپ میں یہ بات کہتا ہوں جو میں نے اوپر لکھی ہے تو فوراً ہی لوگ پوچھنے لگ جاتے ہیں کہ اچھا، جلدی سے بتائیے کہ ہم سے کس کس نے جھوٹ بولا ہے اور کیوں بولا ہے۔ مجھے حیرت اس لیے ہوتی ہے کہ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ سچ کیا ہے جو آج تک ہمارے سامنے نہیں آیا تھا اور کس طرح ہم جلد سے جلد اُسے معلوم کر سکتے ہیں۔

اس لیے میری درخواست ہے کہ پہلے یہ معلوم کر لیجیے کہ سچ کیا ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اس وقت ہمیں جو مسائل درپیش ہیں، اُن میں سے اکثر خودبخود حل ہو سکتے ہیں اگر ہمیں اپنی صحیح تاریخ معلوم ہو۔ "آزادی” میں یہ حقائق آپ کے سامنے آ رہے ہیں۔

الیکٹرانک بُک کی صورت میں یہ کتاب مفت ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ کاغذی صورت میں بھی جلد ہی پیش کر دی جائے گی، انشأاللہ۔ لیکن اسے اشاعت سے پہلے ہی الیکٹرانک صورت میں پیش کرنے کی ضرورت مجھے اس لیے پیش آ رہی ہے کہ میں باقی جو کچھ بھی کر رہا ہوں، خواہ میری تحریریں ہوں یا ورکشاپس اور دوسری سرگرمیاں ہوں، اُن سب کی بنیاد ہی اُن حقائق پر ہے جو یہاں پیش کیے جا رہے ہیں اور جن میں سے اکثر شاید کسی کو بھی یاد نہیں رہے ہیں۔

ایک درخواست یہ ہے کہ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔


ڈاؤن لوڈ کیجیے


فہرس

    • پہلی بات
    1. نفرت کا آغاز
    2. تمام انسانوں کی رُوح
    3. اجتماعی رائے
    4. پسند کرنے کا حق
    5. آزادی کا راستہ
    6. آزادی
    7. اصل داستاں
    • ضمیمے
    • حوالے

پہلی بات

اِس سے پہلے کہ آپ یہ کتاب شروع کریں، میں ایک چھوٹی سی کہانی سنانا چاہتا ہوں۔

ایک نوجوان ہمیشہ دعا کیا کرتا تھا، ’’اے خدا! تُو ہر ایک کو اُس کی فطرت کے مطابق رزق عطا کرتا ہے۔ تُو نے میری فطرت میں کاہلی اور تن آسانی رکھی ہے۔ اس لیے مجھے بغیر محنت  کے رزق عطا  کر دے!‘‘ وہ نوجوان یہ دعا مانگنے کے سوا کچھ نہیں کرتا تھا اور لوگ اُس پر ہنستے تھے۔

ایک دن ایک گائے اپنے سینگوں سے اُس کے گھر کے دروازے کو دھکا دے کر صحن میں آ گئی۔ نوجوان نے خدا کا شکر کیا کہ اُس کی دعا قبول ہوئی ہے، اور گائے کو ذبح کر ڈالا۔ کچھ دیر بعد گائے کا مالک بھی اپنی گائے کو تلاش کرتا ہوا وہاں آن پہنچا۔ جب اُس نے دیکھا کہ نوجوان نے اُس کی گائے ذبح کر ڈالی ہے تو اُس نے لوگوں کو جمع کر لیا۔

مولانا روم اپنی مثنوی میں  یہ حکایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ حضرت داؤدؑ کا زمانہ تھا۔  گائے کا مالک اور دوسرے لوگ نوجوان کو حضرت داؤدؑ کی عدالت  میں لے گئے جنہوں نے پوری بات سننے کے بعد کہا کہ ملزم کسی سے قرض لے کر گائے کے مالک کو گائے کی قیمت ادا کر دے۔ نوجوان زاروقطار رونے لگا اور خدا سے فریاد کی،’’جس طرح تُو نے میرے دل میں یہ یقین ڈالا کہ میری دعا ضرور قبول ہو گی اور جس طرح تُو نے حضرت یوسفؑ کے دل میں یقین ڈالا تھا کہ اُن کا خواب سچا ہے، اُسی طرح حضرت داؤدؑ کے دل کو بھی میرے لیے نرم کر دے!‘‘

حضرت داؤدؑ پر نوجوان کی آہ و زاری کا کچھ اثر ہوا۔ اُنہوں نے لوگوں سے کہا، ’’تم سب کل آنا۔ میں اِس دوران تنہائی میں خدا سے مدد مانگنا چاہتا ہوں۔‘‘ چنانچہ خدا نے اُن  کے دل پر تمام معاملہ ظاہر کر دیا اور جب اگلے دن سب لوگ عدالت میں حاضر ہوئے تو حضرت داؤدؑ نے گائے کے مالک سے کہا، ’’تم دعوے سے دستبردار ہو جاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو جس نے تمہارا پردہ رکھا ہوا ہے۔‘‘

گائے کا مالک اِس عجیب و غریب فیصلے پر حیران ہوا اور سخت احتجاج کیا۔ اس پر حضرت داؤد نے کہا، ’’تم اپنی ساری جائیداد بھی اس نوجوان کے حوالے کر دو۔ خدا کا شکر کرو کہ بات یہیں ختم ہو رہی ہے۔‘‘ لیکن اب گائے کے مالک کے احتجاج میں دوسرے حاضرین بھی شریک ہو گئے اور حضرت داؤدؑ سے کہنے لگے کہ ایک پیغمبر ہو کر خلافِ شریعت فیصلہ دینا ان کے لیے مناسب نہیں ہے۔

تب حضرت داؤدؑ نے کہا کہ فلاں مقام پر ایک گھنا درخت ہے۔ اُس کی جڑوں سے انہیں خون کی بُو آ رہی ہے کیونکہ وہاں ایک قتل ہوا تھا۔ وہ سب لوگوں کو ساتھ لے کر وہاں پہنچے اور کہا کہ یہاں ایک غلام نے  بڑی بے رحمی کے ساتھ اپنے آقا کو قتل کر کے اُس کا سر درخت کے نیچے زمین میں دفن کیا اور وہیں اپنا خنجر بھی چھُپا دیا۔

لوگوں نے زمین کھودی تو مقتول کا سر اور قاتل کا خنجر برآمد ہو گیا۔  خنجر پر اُسی شخص کا نام لکھا تھا جو گائے کے مالک کی حیثیت میں دعویٰ لے کر عدالت میں آیا تھا۔ حضرت داؤدؑ نے لوگوں سے کہا کہ  یہ وہ غلام ہے جس نے اپنے مالک کو قتل کیا۔ اُس کے بعد مالک کی تمام جائیداد  پر قبضہ کر لیا۔ مالک  کا خاندان بے سہارا رہ گیا جس کی اِس نے کوئی خبر نہ لی یہاں تک کہ آج  ایک گائے کے لیے اُسی مالک کے بیٹے کو عدالت میں کھینچ لایا ہے۔ اب ایک شخص کو قتل کرنے کے جرم میں اسی کے خنجر سے اس کی جان لے لی جائے۔  اس کی تمام جائیداد کا قانونی حقدار بھی یہی نوجوان ہے کیونکہ حقیقت میں  وہ جائیداد نوجوان کے مرحوم باپ کی ملکیت  تھی۔

یہ کہانی سنانے سے میرا مقصد یہ ہے کہ بعض اوقات کسی صورت حال کے بارے میں صحیح واقعات سے واقف ہونے  کے بعد ہمارا نقطۂ نظر حیرت انگیز طور پر بدل سکتا ہے۔

آپ اُس نوجوان کو ہماری قوم سمجھ لیجیے۔ جس طرح نوجوان کے حالات اُس وقت بد ل گئے جب یہ بات سامنے آئی کہ اُس کا مرحوم باپ  کون تھا اور کیا کچھ اُس کے لیے چھوڑ گیا ہے، بالکل اُسی طرح ہمارے اکثر موجودہ مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں اگر صرف ہمارے بزرگوں  کی اصل کہانی سامنے آ جائے:

دیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
یہ اِک مردِ تن آساں تھا، تن آسانوں کے کام آیا!

الیکٹرانک بُک کی صورت یہ کتاب حاضر ہے۔ انشأاللہ جلد ہی کاغذی پیراہن میں بھی سامنے آئے گی۔ یہاں جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، اُس کی مزید تشریحات میری دوسری کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے علاوہ میری انگریزی اور اُردو کی ویب سائٹس اور میرے فیس  بُک اور ٹوئٹر کے صفحات پر بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

خرّم علی شفیق
12 اپریل 2019
khurramsdesk@gmail.com


ڈاؤن لوڈ کیجیے